کون کہتا ہے آنکھیں چرا کر چلے
کون اُن سے نگاہیں لڑا کر چلے
وہ حسیں کیا جو فتنے اُٹھا کر چلے
ان کے کوچہ میں منگتا صدا کر چلے
قصۂ غم سنایا سنا کر چلے
رب کے بندوں کو رب سے ملا کر چلے
مَنْ رَّاٰنِیْ رَاَ الْحَقّ سنا کر چلے
جز بشر اور کیا دیکھیں خیرہ نظر
جگمگا ڈالیں گلیاں جدھر آئے وہ
کیسا تاریک دنیا کو چمکا دیا
کوئی مانے نہ مانے یہ وہ جان لے
کوڑیوں کوڑھیوں کے لیے کوڑھ دُور
یادِ دامن سے ُمرجھائی کلیاں کھلیں
شب کو شبنم کی مانند رویا کیے
بد سے بد کو لیا جس نے آغوش میں
جو کمینے تھے ان کو معزز کیا
سب کو اسلام کا تم نے بخشا شرف
اِین و آں اور چنیں و چناں سروَرا
جس کا ثانی ہوا اور نہ ہے اور نہ ہو
عمر بھر اَعدا ان کو ستایا کیے
سخت اَعدا کو بھی عفو فرما دیا
جسمِ پُرنور کا یوں تو سایا نہ تھا
مرتے دم سر درِ پاک پر رکھ دیا
جب قمر اِک اِشارے سے ٹکڑے کیا
معجزوں کو وہ جادو بتاتے رہے
جن کے دعوے تھے ہم ہی ہیں اَہلِ زباں
کَئے صحابی تھے پر تھی یہ ہیبتِ حق
اور گردن َکشی کی تو مارے گئے
جن کو اپنا نہیں غم ہمارے لیے
ابھی میزان پر تھے ابھی پل پہ ہیں
سرِ کوثر سنا شور پیاسوں کا جب
کسی جانب سے آئیں ندائیں حضور
دَم میں پہنچے وہ حکمِ رِہائی دیا
داغِ دِل ہم نے نوریؔ دِکھا ہی دیا
— Mustafa Raza Khan Noori\