کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں
نہ کیسے یہ گل و غنچے ہوں خوار آنکھوں میں
بسا ہوا ہے کوئی گل عذار آنکھوں میں
ہوا ہے جلوہ نما گل عذار آنکھوں میں
سرور و نور ہو دل میں بہار آنکھوں میں
وہ نور دے مرے پروردَگار آنکھوں میں
نظر ہو قدموں پر ان کے نثار آنکھوں میں
نہ اک نگاہ ہی صدقہ ہو دل بھی قرباں ہو
بصر کے ساتھ بصیرت بھی خوب روشن ہو
تمہارے قدموں پہ موتی نثار ہونے کو
نظر نہ آیا قرارِ دِلِ حزیں اب تک
انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں
نظر میں کیسے سمائیں گے پھول جنت کے
عجب نہیں کہ لکھا لوح کا نظر آئے
ملے جو خاکِ قدم ان کی مجھ کو قسمت سے
مَدینہ جانِ چمن اور خزاں سے اَیمن ہے
کھلے ہیں دِیدئہ عشاق خوابِ مرگ میں بھی
خزاں کا دَور ہوا دُور وہ جہاں آئے
یہ اِشتیاق تری دِید کا ہے جانِ جہاں
یہ آسمان کے تارے یہ نرگس شہلا
یہ دَم ہمارا کوئی دَم کا اَور مہماں ہے
وہ سبز سبز نظر آرہا ہے گنبد سبز
بہارِ دنیا ہے فانی نظر نہ کر اس پر
یہ گل یہ غنچے یہ گلشن کے بیل اور بوٹے
یہ حالِ زَار ہے فرقت میں تیرے مُضطَر کا
وہی مجھے نظر آئیں جدھر نگاہ کروں
یہ دل تڑپ کے کہیں آنکھوں میں نہ آجائے
نہ ایسے پھول کھلے ہیں کبھی نہ آگے کھلیں
قریب ہے رَگِ گردن سے پر جدا ہے وہ
یہ قرب اور یہ دُوری خدا کی قدرت ہے
کرم یہ مجھ پہ کیا ہے مرے تصوّر نے
فرشتو پوچھتے ہو مجھ سے کس کی اُمت ہو
نہ صرف آنکھیں ہی روشن ہوں دِل بھی بینا ہو
ہزار آنکھیں ہیں تاروں کی اِک گل مہتاب
یوں ہی ہیں ماہِ رِسالت بھی سب نبیوں میں
یہ کیا سوال ہے مجھ سے کہ کس کا بندہ ہے
ہے آشکار نظر میں جہاں کی نیرنگی
جما ہوا ہے تصور میں روضۂ والا
نہار چہرئہ والا تو گیسو ہیں وَ اللَّیْل
پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\