کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو
نبیوں میں ہو تم ایسے نبی الانبیا تم ہو
تمہارا حسن ایسا ہے کہ محبوبِ خدا تم ہو
علو مرتبت پیارے تمہارا سب پہ روشن ہے
تمہاری حمد فرمائی خدا نے اپنے قرآں میں
جو سب سے پچھلا ہو پھر اس کا پچھلا ہو نہیں سکتا
تمہیں سے فتح فرمائی تمہیں پر ختم فرمائی
خدا نے ذات کا اپنی تمہیں مَظہَر بنایا ہے
تمہیں باطن تمہیں ظاہر تمہیں اوَّل تمہیں آخر
منوّر کردیا ہے آپ کے جلوؤں نے عالم کو
مٹادی کفر کی ظلمت تمہارے رُوئے روشن نے
جہاں تاریک تھا سارا اندھیرا ہی اندھیرا تھا
مِرا منہ کیا کہ میں مدح و ستائش میں زباں کھولوں
رَفَعْنَا سے تمہاری رِفعت بالا ہوئی ظاہر
علو رُتبۂ سرکارِ عالی سب پہ روشن ہے
شبِ معراج سے اے سیدِ کل ہوگیا ظاہر
نہ ہوتے تم نہ ہوتے وہ کہ اصلِ جملہ تم ہی ہو
تمہارے چاہنے والے کو کچھ ایسی محبت ہے
تمہارے چاہنے والے اسے محبوب ہیں سارے
تمہارے بعد پیدا ہو نبی کوئی نہیں ممکن
یہ کیا میں نے کیا کیوں ڈھونڈ ڈالا عرصۂ محشر
مگر ایسا نہ کیوں ہوتا کہ محشر میں یہ کھلنا تھا
گرفتارِ بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر
خبر لیجے خدارا میرے مولیٰ مجھ سے بے کس کی
مُسَلَّط کردیا تم کو خدا نے اپنے غیبوں پر
چمک جائے دلِ نوریؔ تمہارے پاک جلوؤں سے
— Mustafa Raza Khan Noori\
