شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے
گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے
کِس خاکِ پاک کی تو بنی خاکِ پا شفا
آبِ حیات رُوح ہے زرقاکی بُوند بُوند
ہم کو تو اپنے سائے میں آرام ہی سے لائے
لُٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یُوں ہی سُنا کیے
وہ دیکھو جگمگاتی ہے شب اور قمر ابھی
مَاہِ مَدینہ اپنی تجَلّی عطا کرے!
مَنْ زَارَ تُرْبَتِیْ وَجَبَتْ لَہ ٗ شَفَا عَتِیْ
اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دیے
کعبہ کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
کعبہ بھی ہے اِنھیں کی تَجلی کا ایک ظل
ہوتے کہاں خلیل و بِنا کعبہ و منیٰ
مَولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز
صِدیق بلکہ غار میں جان اس پہ دے چکے
ہاں تو نے ان کو جان انھیں پھیر دی نماز
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
شرخیر شور سورؔ شرر دور نار نور!
مجرم بُلائے آئے ہیں جَاءُ وْکَ ہے گواہ
بد ہیں مگر اُنہیں کے ہیں باغی نہیں ہیں ہم
تف نجدیت نہ کفر نہ اسلام سب پہ حرف
حاکم حکیم داد و دَوا دیں یہ کچھ نہ دیں
شکل بشر میں نورِ الٰہی اگر نہ ہو!
نُورِ اِلٰہ کیا ہے محبت حبیب کی
ذِکر خدا جو اُن سے جدا چاہو نجدیو!
بے اُن کے واسطہ کے خدا کچھ عطا کرے
مقصود یہ ہیں آدم و نوح و خلیل سے
اُن کی نبوت اُن کی اُبوت ہے سب کو عام
ظاہِر میں میرے پھول حقیقت میں میرے نخل
پہلےہو ان کی یاد کہ پائے جِلا نماز
دُنیا مزار حشر جہاں ہیں غفور ہیں
اُن پر دُرود جن کو حجر تک کریں سلام
اُن پر درود جن کو کَسِ بے کسَاں کہیں
جن و بشر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلام
شمس و قمر سَلام کو حاضر ہیں اَلسَّلام
سب بحر و بر سلام کو حاضِر ہیں اَلسَّلام
سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلام
عرض و اثر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلام
شورِیدہ سر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلام
خستہ جگر سَلام کو حاضر ہیں اَلسَّلام
سب خشک و تر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلام
سب کَرّ و فر سلام کو حاضر ہیں السَّلام
اہلِ نظر سَلام کو حاضر ہیں اَلسَّلام
آنسو بہا کہ بہ گئے کالے گنہ کے ڈھیر
تیری قضا خلیفۂ اَحکامِ ذی الجلال
یہ پیاری پیاری کیاری تِرے خانہ باغ کی
جنت میں آکے نار میں جاتا نہیں کوئی
مومن ہوں مومنوں پہ رؤفٌ رحیم ہو
دامن کا واسطہ مجھے اُس دھوپ سے بچا
ماں دونوں بھائی بیٹے بھتیجے عزیز دوست
جن جن مُرادوں کے لئے اَحباب نے کہا
فضل خدا سے غیب شہادت ہوا اِنھیں
کہنا نہ کہنے والے تھے جب سے تو اطلاع
اُن پر کتاب اُتری بَیَانًا لِّکُلِّ شَیْء
آگے رہی عطا وہ بقدر طلب تو کیا
بے مانگے دینے والے کی نعمت میں غرق ہیں
اَحباب اس سے بڑھ کے تو شاید نہ پائیں عرض
دنداں کا نعت خواں ہوں نہ پایاب ہو گی آب
دشتِ حرم میں رہنے دے صیّاد اگر تجھے
یاربّ رضا نہ احمد پارینہ ہو کے جائے
توفیق دے کہ آگے نہ پیدا ہو خوئے بد
آکچھ سُنا دے عشق کے بولوں میں اے رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\