آؤ اک بار پھر مکّے کی پُرنور فضاؤں میں چلیں
پھر چشمِ تصورمیں لائیں اِک بار وہ منظرِ ولادت آقاؐ صاحب
بادِنسیم کی اٹکھیلیاں دیکھیں آفتاب وماہ تاب کی بے چینی دیکھیں
گلشنِ حبیب کے سبھی پنکھ پکھیرو جلوۃ نور پرتھے کبھی مدحت سرا
توقیرِ آمنہ میں فرش تاعرش فرشتوں نےتان دی تھی نور کی چادر
طلوع فجرایماں کیا ہوئی کہ ٹوٹ گۓ کسریٰ کےمحلات کےمنارےسَبھی
نماز پنج گانہ تو سبھی خضوع پڑھتےہیں روزانہ سائیں
والئیِ بطحا کی آمد تھی کہ خوشبوےجنت سے مہک اُٹھے در و بام سبھی
اندھیرےچَھٹ گۓ سارے، بجھ گیا آتش کدۃ فارس، ضوفشانی ہوگی شفقتؔ
— Muhammad Shafqat Ullah Qadri\
