عاصیوں کو در تمہارا مل گیا
فضلِ رب سے پھر کمی کس بات کی
اُن کے در نے سب سے مستغنی کیا
ناخدائی کے لۓ آۓ حضور
دونوں عالم سے مجھے کیوں کھودیا
آنکھیں پُرنم ہو گئیں سرجھک گیا
خلد کیسا کیا چمن کس کا وطن
ہے محبت کس قدر نامِ خدا
تیرے درکے ٹکڑےہیں اورمیں غریب
اے حسن فردوس میں جائیں جناب
— Hassan Raza Khan Barelvi\
