سدا بیٹھےرہیں بسترلگاکر ان کے کوچے میں
نہ کوئی آرزو آۓگی لب پر پھر دعا بن کر
خدا انوار و رحمت کے خزینےکھول دیتا ہے
صدا کرنی درِمحبوب پر اچھی نہیں لگتی
ہزاروں تاجور لاکھوں سکندرہم نے دیکھےہیں
درِ محبوب سے انوار کی خیرات لینے کو
مری بےتاب حسرت کو قرار آجاۓ گا ناصرؔ
— Unknown
