مرا دل اور مری جان مدینے والےؐ
تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو کہاں میں جاؤں
بھردے بھردے مرے داتا مری جھولی بھردے
آڑے آئی ہے تری ذات ہر اک دکھیا کے
پھر تمناۓ زیارت نے کیا دل بے چین
سگِ طیبہ مجھے سب کہہ کے پکاریں بیدم
— Bedam Shah Warsi\
مرا دل اور مری جان مدینے والےؐ
تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو کہاں میں جاؤں
بھردے بھردے مرے داتا مری جھولی بھردے
آڑے آئی ہے تری ذات ہر اک دکھیا کے
پھر تمناۓ زیارت نے کیا دل بے چین
سگِ طیبہ مجھے سب کہہ کے پکاریں بیدم
— Bedam Shah Warsi\
ذکرکرتا ہوں میں آپ کاہرگھڑی یانبی یانبی یانبی یانبی
کیا کہوں آپ کی شانِ جلوہ گری یانبی یانبی یانبی یانبی
آپ سےہوگئ جس کووابستگی یانبی یانبی یانبی یانبی
صد ظہور سحرہےظہورآپ کاسارے عالم میں پھیلا ہے نور آپ کا
آپ کے درکے سائل ہیں شاہ گدا رحمتیں بٹ رہی ہیں یہاں پرسدا
سبز گنبد پہ نظریں جماؤں کبھی تیرےروضےکے قربان جاؤں کبھی
انبیاءکےلبوں پرترےتذکرےحوروغلماں کےہونٹوں پہ نغمے ترے
شہرِ یار ارم سید ذی حشم افضل خستہ جاں پہ بھی چشم کرم
— Unknown
جہاں میں سب سے اونچا ہےمیرے سرکار کا جھنڈا
فرازِ عرش پربھی اڑرہا ہےشان وشوکت سے
اتر کرعرش سے جبریل نے کعبے کی رفعت پر
خبر اس بات کی اے منکرو شاید نہیں تم کو
قسم اللہ کی وہ شخص ہے سرکار کا عاشق
بچاۓگا بروزِ محشروہ امت کو گرمی سے
ازل سےاس کی عظمت پرتصدق ہوں میں اے عابدؔ
— Unknown
اِدھر چوم لوں گا اُدھر چوم لوں گا
ہے چامان تسکین جاں اُن کا سایہ
جو سجدہ گہہ قدسیان فلک ہے
ہیں جس میں بسےسبزگنبد کے جلوے
نسیم شفاعت کے آئیں گے جھونکے
سناۓ گا جب تو نویدِ حضوری
مجھے لاکھ روکے کوئی چومنے سے
جو اک بار روکا مجھے چومنے سے
— Unknown
کعبے میں جوسنی ہے اذاں، پھر سنائی دے
ہر سانس چومتی رہے احمد ﷺ کا آستاں
روضے کےسامنےپڑھوں جی بھرکےمیں درود
اک بار پھر سے گنبدِ خضریٰ کو دیکھ لوں
عاصی، گنہگار، خطاکار ہے حسن
— Hassan Rizvi\
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
گر ارض و سما کی محفل میں '' لولاک لما'' کا شور نہ ہو
جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
بوبکر و عمر عثمان و علی ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی
وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکان فلسفہ سے
— Unknown
جانے کیا کیا دان کیا ہے شہرِ مدینےوالے نے
سیدنا حمزہ کا قاتل آگیا جب دروازے پر
ایک خدا ہےاک ہےقرآں ایک ہی دےکردیں ہم کو
گمراہی کی دلدل میں تھے لت پت سارے لوگ مگر
ایک نظر فرمانےسےہی بات مری تو بن آئی
جن کی نہیں تھی کوئی عزت کوئی عظمت اُن کوبھی
شہر مدینے جانے والو تم کو لاکھ مبارک ہو
جن کا کوئی نہیں ہے ناصرؔان کا میں ہوں اے ناصرؔ
— Unknown
طیبہ کی طرف ہے عزم سفردل وجد میں ہے جاں رقص میں ہے
طیبہ کی منور راگزردل وجد میں ہے جاں رقص میں ہے
واللیل کا روشن منظرہے والشمس کے نوری جلوے ہیں
لو ظلمتِ شام رنج والم اب دورہوئی کافور ہوئی
خورشید مدینہ کے جلوے راتوں کو منور کرتے ہیں
جب تشنہء الفت نےپاۓ اس ابررحمت کے چھینٹے
دیوانہء عشق حضرت ہوں بےگانہء عقل وہوش نہیں
پھریاد مجھے بھی فرمایا سرکارِ مدینہ نے افضل
— Unknown
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
لوگ کہتے ہیں کہ سایا تیرےپیکر کا نہ تھا
شرق اورغرب میں بکھرےہوۓ گلزاروں کو
اب بھی ظلمات فروشوں کع گلہ ہے تجھ سے
پورے قدم سے جو کھڑاہوں تویہ تیراہےکرم
ایک بار اور طیبہ سے فلسطین میں آ
— Ahmed Nadeem Qasmi\
رسول مجتبیٰ کہۓ، محمد مصطفیٰ ﷺ کہۓ
شریعت کا ہے یہ اصرار ختم الانبیاء کہۓ
جب اُنؐ کا ذکر ہو دنیا سراپا گوش ہو جاۓ
مری سرکار کے نقش قدم شمع ہدایت ہیں
محمد ﷺ کی نبوت دائرہ ہے نور وحدت کا
غبار راہ طیبہ سرمہ چشم بصیرت ہے
مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آنسو نہیں رکتے
— Unknown