حشر میں نامۃ سایہ کا بوجھ
آگ کے کپڑے رحم! ہوگا وہ کیا
درگزر، عفو، مغفرت، یا رب!
دیکھ میزان حشر کی رو سے
بندگی ہو مجھے حلاوت بخش
لفظ توحید تجھ سے ہے مخصوص
صاف کر دیجو، میری فردِ عمل
بے نیازانہ جہ زمانے میں
غلطی کی ریاضؔ ہم نے جو
— Riaz Majeed\
حشر میں نامۃ سایہ کا بوجھ
آگ کے کپڑے رحم! ہوگا وہ کیا
درگزر، عفو، مغفرت، یا رب!
دیکھ میزان حشر کی رو سے
بندگی ہو مجھے حلاوت بخش
لفظ توحید تجھ سے ہے مخصوص
صاف کر دیجو، میری فردِ عمل
بے نیازانہ جہ زمانے میں
غلطی کی ریاضؔ ہم نے جو
— Riaz Majeed\
صورت نجات بن گئی
پہلے اُن کا نور ہو گیا
رخ کی روشنی سے دن بنا
جان دی درِ حضور پر
آیتِ قرآن جو پڑھی
نصیرؔ اُن کی چوکھٹ پر
— Unknown
سوہنے نبی ﷺ داناں لئ جا موہنے نبی ﷺ داناں لئ جا
کجھ تے حیاتی د امعیار ہونا چاہی دا
سانوں یارِ غار نے ایہہ دسیا اے دوستو
جہڑے تیرے نام دیاں محفلاں سجاندیاں نیں
حضرت صدیق دی ایہہ دل دی تمنا سی
جہڑے ویلے یاد کرو اپنے غلاماں نوں
سوہنے نبی ﷺ داناں لئ جا موہنے نبی ﷺ داناں لئ جا
— Unknown
مرے حضور بناؤ تو بات بنتی ہے
غلام بیٹھےرہیں گےبچھا کےآنکھوں کو
مرے حضورکی چوکھٹ سےیہ صدا آۓ
یہ جان ان کی امانت اگر ہے پھراس میں
جسے وسیلہ بنایا تمام نبیوں نے
فقط سجانا ہی کافی نہیں محفل کا
بلال آکے مدینے، مدینے والوں کو
انہیں حبیب سمجھتے ہو تم اگر ناصر
— Nasir Hussain Chishti\
اتنی تو دل کو' اے خدا ! ہو سمجھ
کیا سمجھ آۓ تیری' آدم کو
ہر صفت میں وہ کامل و اکمل
رہے پل بھر نہ اس کے ذکر بغیر
تُو ہی الہام کر ریاضؔ کو حق
— Riaz Majeed\
آقا کا در سخی ہے مدینے میں جا کے دیکھ
ملتا ہے کیا نہیں وہاں سر کو جھکا کے دیکھ
قسمت میں جو نہیں ہے تری وہ بھی پاۓ گا
دے پنجتن کا واسطہ اور دیکھ لے کرم
نامِ حسن حسین پہ رکھ لیں گے آقا لاج
رحمت سے سب کی جھولیاں بھرتے حضور ہیں
شہرِ نبی میں مانگ مقدر سے بھی سوا
اے میرے دل حضور کی نظر کرم ہے یہ
اشکوں سے حاضری کی دعا مانگ پھر کمالؔ
سر کو قدم بنا کر مناسب ہے یہ کمالؔ
— Unknown
آکھیں سوہنے نوں ہواۓ نی جے تیرا گزر ہووے
دم دم نال ذکر کراں میں تیریاں شاناں دا
جے جین دا چاہ رکھنا ایں تُو راہیا مدینے دیا
اوہدی ذات تے ہر ویلے پُھل چڑھدے دروداں دے
دیوانیو! بیٹھے رہو محفل نوں سجا کے تے
اوہ کیسیاں گھڑیاں سَن مہمان ساں سوہنے دے
ایہو دل وچ نیازیؔ دے اِک آس چروکنی اے
— Abdul Sattar Khan Niazi\
میرے گھر وچ وی کدی آ کے اجالے کر دے
اک پیالے نوں جیویں کیتا سی دریا دریا
موڑا تیری نہیں کوئی وی اللہ تیرا
صرف نعتاں نوں بنا اپنا وظیفہ جھلیا
چن سورج نےفدا تیری اداواں توں شہا
جےتوں چاہنا ایں کہ بچ جاواں حشروچ ناصر
— Syed Nasir Hussain Chishti\
تیرا ہر پارۃ مبیں ہے سچ
جیسے قرآں کی آیت آیت ہے
ہوا آغاز جس کا اقرا سے
لاۓ جبریل وحی جو لاریب
نام جس کا محمدؐ عربی
زہے شیخین کی قرابتِ قبر
دائم آرام اور سکینت بخش
کذب ہے ہر حوالہ تیرے بغیر
کبھی عکس اس کا جلوہ گر ہو ریاضؔ
— Riaz Majeed\
رحمت حق کا اسی شخص پہ سایا ہو گا
جب سنا ہوگا کہ وہ ماہِ مبیں آۓ ہیں
صدقہء آلِ نبی جس نے بھی مانگا ہوگا
ہو گئیں مشکلیں آسان جو اس مشکل میں
نعمتیں سارے جہانوں کی ملی ہونگی اُسے
بن گیا ہوگا جو محبوب خدا کا بندہ
پوچھتا کیسے کوئی تم سے لحد میں خاکیؔ
— Unknown