بگڑی کو بنائیں گے ہم شہر مدینہ میں
جالی کو چومیں گے ہم طیبہ گھومیں گے
دربار مدینہ کی اُن نوری جالیوں کو
قدموں میں بیٹھ کے ہم اور نعمتیں پڑھ کےہم
جنت کی کیاری جو ہے رب کو پیاری جو
ہمیں دید کرا آقا ہمیں دید کرا آقا
روضے کی جالیوں کو سینے سے لگا ثاقبؔ
— Unknown
