پیام لے کے جو آئی صبا مَدینے سے
سنو تو غور سے آئی صدا مَدینے سے
ملے ہمارے بھی دِل کو جلا مَدینے سے
تمہاری ایک جھلک نے کیا اُسے دلکش
تمام شاہ و گدا پل رہے ہیں اس دَر سے
جو آیا لے کے گیا کون لوٹا خالی ہاتھ
بتادے کوئی کسی اور سے بھی کچھ پایا
وہ آیا خُلد میں جو آگیا مَدینے میں
نہ چین پائے گا یہ غمزدہ کسی صورت
لگاؤ دل کو نہ دنیا میں ہر کسی شے سے
گدا کی راہ جہاں دیکھیں پھر نواکیوں ہو
چمن کے پھول کھلے مُردہ دِل بھی جی اُٹھے
کرے گی مُردوں کو زندہ یہ تِشْنوں کو سیراب
مَدینہ چشمۂ آبِ حیات ہے یارو
فضائے خلد کے قرباں مگر وہ بات کہاں
ہمارے دل کو تو بھایا ہے طیبہ ہی زاہد
چلے جو طیبہ سے مسلم تو خلد میں پہنچے
تم ایک آن میں آئے گئے تمہارے لیے
تمہارے قدموں پہ سر صدقے جاں فدا ہوجائے
ترے حبیب کا پیارا چمن کیا برباد
ترے نصیب کا نوریؔ ملے گا تجھ کو بھی
— Mustafa Raza Khan Noori\
