بَہُت رنجیدہ و غمگین ہے دل یارسولَ اللہ
بَلاؤں نے مجھے ہر سَمت سے کچھ ایسا گھیرا ہے
پئے اِمداد اپنے شیر حَمزہ کو شہا بھیجو
دلِ مغموم کا سب حال آقا تم پہ ظاہِر ہے
غم و آلام کا مارا ہوں آقا بے سہارا ہوں
تمہیں دیتا ہوں مولیٰ واسِطہ میں چار یاروں کا
جو تُوچاہے تو میرے غم کی بیڑی گر پڑے کٹ کر
مسلماں آہ! غافِل ہوگئے نیکی کی دعوت سے
شہا مَنڈلا رہی ہے موت سرپرپھر بھی میرا نَفس
بڑھا جاتا ہے ہردم آہ! غَلبہ نفس و شیطاں کا
گناہوں کے سبھی اَمراض آقا دور فرما دو
نہ لندن کی نہ پیرس کی نہ امریکا کی ہے خواہِش
شَفاعت حشر میں فرماؤگے جب خوش نصیبوں کی
کرم کردو بجز عِصیاں نہیں ہے کچھ بھی نامے میں
ہمارے زَخم ہائے غم رسولِ پاک بھرجائیں
کچھ ایسی آگ الفت کی لگا دو میرے سینے میں
تِرے اَخلاق پر قرباں ترے اَوصاف پر واری
شہا! جب خُلد میں آپ آگے آگے جائیں اس دم کاش
ابھی بن جائے بگڑی تیرے اِک ادنیٰ اشارے سے
— Unknown
