چاند سورج کی بھلا اس کو ضرورت کیا ہے
پھول بے چین ہیں راہوں میں بکھرنے کے لیے
اس کے پاؤں سے لہو رستا ہے دیکھو تو ذرا
ہم نہ کر پاۓ کبھی آپؐ کے فرماں پہ عمل
چاند ہو تارے ہوں اشجار ہوں یا ہم انساں
چاہے وہ عرش پہ جاۓ کہ مدینے میں رہے
جو کہا رب نے، ہوا اس کے عمل می ظاہر
چار سو مکہ، مدینہ کی فضا میں زیبی
— Syeda Dur E Najaf Zebi\
