شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
اس گل کے سوا ہر پھول باگوش گراں آیا
جب بامِ تجَلّی پر وہ نیّرِ جاں آیا
جنّت کو حَرم سمجھا آتے تو یہاں آیا
طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فنا ہوں گے
سر اور وہ سنگِ در آنکھ اور وہ بزمِ نور
کچھ نعت کے طبقے کا عَالم ہی نرالا ہے
جلتی تھی زمیں کیسی تھی دھوپ کڑی کیسی
طیبہ سے ہم آتے ہیں کہیے تو جناں والو
لے طوقِ اَلم سے اَب آزاد ہو اے قُمری
نامہ سے رضاؔ کے اَب مٹ جاؤ بُرے کامو
بدکار رضاؔ خوش ہو بدکام بھلے ہوں گے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
