ہے جس کی ساری گفتگو وَحیِ خدا یہ ہی تو ہیں
سورج میں جن کی ہے چمک جن کا اُجالا چاند میں
سارا جہان چھوڑ دے جس مجرمِ دِید کار کو
ہر لب پہ جن کا ذِکر ہے ہر دل میں جنکی فکر ہے
چرچا ہے جن کا چار سو ہر ُگل میں جن کا رنگ و بو
باغِ رسالت کی ہیں جڑ اور ہیں بہارِ آخری
یہ ہیں حبیبِ کبریا یہ ہیں محمد مصطفیٰ
جس کی نہ لے کوئی خبر ہوں بند جس پر سارے دَر
ان کا مبارک نام بھی بے چین دل کا چین ہے
گن گائیں جن کے انبیا مانگیں رُسل جن کی دعا
سجدہ شجر جنہیں کریں پتھر گواہی جن کی دیں
ہے فرش کا جو بادشا ہے عرش جس کے زیر پا
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
