یا اِلٰہی ذیلِ ایں شیراں گِرفتم بندہ را
بے وسائل آمدَن سوئے تو منظورِ تو نیسْتْ
مَظْہَرِ عَون اَنْد و اِینجا مَغز حرفی بیش نیسْتْ
نیسْتْ عَون از غیرِ تو بَل غیرِ تو خود ہِیچ نیسْتْ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
Hamd o Sana lyrics praising Allah Almighty
یا اِلٰہی ذیلِ ایں شیراں گِرفتم بندہ را
بے وسائل آمدَن سوئے تو منظورِ تو نیسْتْ
مَظْہَرِ عَون اَنْد و اِینجا مَغز حرفی بیش نیسْتْ
نیسْتْ عَون از غیرِ تو بَل غیرِ تو خود ہِیچ نیسْتْ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
اے اللہ اے اللہ
تُو ہی عطا تُو جود و سخا
اے اللہ اے اللہ
اے اللہ اے اللہ
تُو ہی عطا تُو جود و سخا
اے اللہ یہ ہے دعا
— Unknown
ہر خطا تُو درگزر کر بے کس و مجبور کی
زندگی اور موت کی ہے یاالٰہی! کشمکش
واسطہ نورِ محمدﷺ کا تجھے پیارے خدا !
آپ کے میٹھے مدینے میں پۓ غوث ورضا
جس کسی نے بھی دعا کے واسطے یا رب ! کہا
آمنہ کے لال ﷺ! صدقہ فاطمہ کے لال کا
بہرِ شاہِ کربلا ہو دور آقاﷺ! ہر بلا
نامۃ اعمال میں کوئی حُسنِ عمل نہیں
— Unknown
نورِ خدا
مولیٰ تیرے سوا میرا کون یہاں
نورِ خدا تُو ہے کہاں
میری خطا انکا یہ ہے صلہ
مایوس ہے مجبور ہے
مولیٰ سارے جہاں میں حکومت تیری
نورِ خدا تُو ہے کہاں
تُو ہی ہے اول ہے آخر بھی تُو
تیری شان جلا جلال ھو
مولیٰ ماؤں سے بڑھ کر محبت تیری
نورِ خدا تُو ہے کہاں
— Unknown
یا اللہ یا اللہ اللہ
یا ربِ مصطفیٰ تو مجھے حج پہ بلا
حج کا سفر ہو پھر عطا یا ربِ مصطفیٰ
رخ سوۓ کعبہ ہاتھ میں زم زم کا جام ہو
روتی رہے جو ہر گھڑی عشقِ رسول میں
دے دے طوافِ خانۂ کعبہ کا پھر شرف
آنکھوں میں جلوہ شہ کا اور لب پہ نعت ہو
فردوس میں پڑوس دے اپنے حبیب کا
سب اہل خانہ ساتھ میں ہو کاش چل پڑے
مجھکو بقیعِ پاک میں مدفن نصیب ہو
تُو بھی حساب بخش دے اخترِ زر کو
— Unknown
عِشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
بہ چلی آنکھ بھی اشکوں کی طرح دامن پر
اشک برساؤں چلے کوچۂ جاناں سے نسیم
دل شدوں کا یہ ہوا دامنِ اطہر پہ ہجوم
مُشک سا زلف شہ و نور فشاں رُوئے حضور
تجھ سے اے گل میں سِتم دیدۂ دشتِ حرماں
عکس افگن ہے ہلالِ لبِ شہ جیب نہیں
اشک کہتے ہیں یہ شیدائی کی آنکھیں دھو کر
اے رضاؔ آہ وہ بلبل کہ نظر میں جس کی
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
بدل دے دل کی دنیا دل بدل دے
ہوا و ہرس والا دل بدل دے
بدل دے دل کی دنیا دل بدل دے
گناہ گاری میں کب تک عمر کاٹوں
سنوں میں نام تیرا، دھڑکنوں میں
ہٹا لوں آنکھ اپنی ما سوا سے
کروں قربان اپنی ساری خوشیاں
پڑا ہوں تیرے در پہ دل شکستہ
تیرا ہو جاؤں اتنی آرزو ہے
میری فریاد سن لے میرے مولیٰ
— Unknown
اللہ ہو دم بدم اللہ ہو
ہر کلی ہر ثمر لہلہاتے شجر
عظمتوں رفعتوں کے نشاں تیرے ہیں
اس کی قسرت کرن در کرن در کرن
— Unknown
تجھ سے کیا مخفی مرے پروردگار
نذر کرنے کے لۓ تیرے حضور
ہے خس و خاشاک کا انبار یہ
میرے قحط فکر کا تجھ کو ہے علم ؟
جو غزل سے بچ رہی تھی اہلیت
صورتِ غربال یہ چھلنی حروف
ہے عیاں آشفتگی مفہوم کی
تیری مدحت کے لۓ تیرہ جبیں
ہو رہِ اظہار میں یہ سرخرو
بخش مجھ بے برگ کرتُو غیب سے
خاک سے ہوکیا تری حمد و ثنا
ہے قلم چُپ حسرتِ اظہار سے
عمر ہے بےرنگ بے بنیاد عکس
زندگی کے منتشر انجام پر
کچھ سمجھ آتا نہیں مجھ گنگ کو
جاں خطاؤں پرہی جس کی اساس
سوچ ہے مفلوج ہیں ماؤف لفظ
کون قطرے ذرے تارے گِن سکے
ایک گلدستے میں سمٹے کس طرح
شمع تشویق و چراغ حب کے گرد
اس وفور جذب کے اظہار کی
مضمحل اعصاب کی شوریدگی
تیری لحظہ لحظہ بڑھتی شان سے
میں ہمہ خس طبع تیری ذات پاک
کھرب ہا پہلو ترے، اے حُسن کل!
معنی و مطلب تری ہر شان کے
ربنا ! مقبول ہو بین السطور
حرف کوئی بھی ترے شایانِ شاں
یہ مری سعیِ شکستہ ہو قبول
تُو نگہباں جیسے دنیا میں رہا
تجھ سے یہ عاصی ہے دل سے عفوخواہ
ایک ہی خواہش ہے اے بارالہ!
ذہن ، ترتیب توازن یاب ہو
تیرے در پرعفو کا طالب ہوں میں
حمد کے آداب سے نا آشنا
مصرع تراک بھی کب لکھا گیا؟
بھربھی مٹی سے یہ بے صرفہ لفظ
خاسر و خائن یونہی بیکار میں
جانتا ہوں میں ترے قابل نہیں
عفو کا رستہ کوئی راہ نجات
حبسِ دل میں بادِ بخشش کی چلے
زنگ اتر جاۓ ریا و مکر کا
پا رہا ہوں بارکس دربار میں
صدقۃ حضرت محمد مصطفیٰ
غایت کُن ' حاصل امکان و ہست
اسے خوشا! تکرار اس کے نام کی
نام ہے کیسا تسلسل آفریں
ذکر ہے گردان آمادہ یہی
جیبھ تھکتی ہی نہیں اس نام سے
طالب اس کی دید کا ہر دیدہور
جسؐ کا نام آتے مہک اٹھے ورق
گفتگو کیا کم ہو اسؐ کی شان کی
اس کی ذات اس کی رسالت اس کے وصف
اس کی ختم المرسلینی کو دوام
آپؐ کے اصحاب تاروں کی مثال
بڑھ کے وہ ماں باپ سے اولاد سے
منفرد فدویت و ایثار میں
تھام اپنے لطف کی آغوش میں
فنہ و شر میں نظر آۓ مجھے
حیف بڑھتی زندگی کے ساتھ ساتھ
وحشتِ شوریدگی پاۓ سکوں
عافیت اسلوب' خیر انجام ہو
روز و شب ہوں خیر خواہ خیر مند
اس جہاں میں تو ذرا ممکن نہیں
کیا ترے شایان شاں اک مدح بھی
ہے دعا یہ ہی یہی ہے التجا
اپنے دامانِ محبت میں سمیٹ
ہوں توازن یاب واماندہ حسیں
آ گیا ہے جو خلل اعصاب میں
انتشار افکار کا ہو راست رو
دہر ہو برزخ ہو عقبیٰ ہو فقط
اولین و آخریں امید تُو
ایک دو پل کے سہارے دوسرے
خوش گماں ہیں تیری رحمت پر بہت
تو نے آسودہ مجھے دکھا سدا
ہو دعاۓ رفتگاں ہمرہ مرے
ہو ازالہ اربوں جرموں کا مرے
تیری رحمت سے ہوں آساں منزل
ہو نہ دل مصلوب اس آشوب میں
ربنا سبحان ربی العظیم
عرصۃ محشر میں آسودہ رہے
حرف بخشش کی ملے مجھ کو نوید
صف بہ صف اس کی خطائیں ہیں کرم
بےکراں فہرست اس کے جرم
خوبیاں گر ایک دو ہوں بھی تو وہ
واۓ نادانی! ہمیشہ ہی رہی
تیری طاعت میں نہیں گزری حیات
داغ سھبے دور ہوں شاہا کرم!
تیرے دیں پر ہو تصدیق زندگی
پاؤں تیری بندگی میں سر خوشی
پھول بن جائیں ترے اکرام سے
بےبسی کی چُپ نہ جاۓ رئیگاں
زندگی بھر تو نے رکھا کامراں
رحم ! اے بینندۃ مافی الصدّور
تیری رحمت سے ہو اطمینان بخش
ہو مری شرمندہ چُپ' حمد آشنا
تو اگر چاہے تو یہ دیوانِ حمد
اختتام اس مصرع پر ہو حمد کا
— Unknown
میرے لحن و لہجہ میں جو ہر و خبر میں آ
تیرے نام کی برکت سے کروں سفر آغاز
حیرتی زمینوں کا رازیاب کر مجھ کو
خلوتِ تہجد کی خامشی ! سہارا بن
یادِ حق تعالیٰ! ہر کلفت و اذیت میں
صبح فتح کی تمثال روح میں اجالا کر
کوئی ایک پل ایسا جو امر ہو مل جاۓ
اذنِ رب سے تاثیر و شادمانی درواں
رب آیۃ اقراء کی مدیح کا ہے قصد
— Riaz Majeed\