حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے
اُن کے نقشِ پا پہ غیرت کیجیے
اُن کے حسنِ با ملاحت پر نثار
اُن کے در پر جیسے ہو مِٹ جائیے
پھیر دیجے پنجۂ دیوِ لعیں
ڈُوب کر یادِ لبِ شاداب میں
یادِ قامت کرتے اُٹھیے قبر سے
اُن کے دَر پر بیٹھیے بن کر فقیر
جِس کا حُسن اللہ کو بھی بَھا گیا
حی باقی جس کی کرتا ہے ثنا
عرش پر جس کی کمانیں چڑھ گئیں
نیم وا طیبَہ کے پھولوں پر ہو آنکھ
سر سے گِرتا ہے ابھی بارِ گناہ
آنکھ تو اُٹھتی نہیں کیا دیں جواب
عذر بدتر از گنہ کا ذِکر کیا
نعرہ کیجے یارسول اللہ کا
ہم تمہارے ہو کے کس کے پاس جائیں
مَنْ رَاٰنِی قَدْ رَأَی الْحَق جو کہے
عالمِ علم دو عالم ہیں حضور
آپ سلطانِ جہاں ہم بے نوا
تجھ سے کیا کیا اے مِرے طیبہ کے چاند
دَر بدر کب تک پِھریں خستہ خراب
ہر برس وہ قافلوں کی دُھوم دھام
پھر پلٹ کر مُنھ نہ اُس جانب کیا
اَقربا حُبِّ وَطن بے ہمتی
اب تو آقا مُنھ دِکھانے کا نہیں
اپنے ہاتھوں خود لٹا بیٹھے ہیں گھر
کِس سے کہیے کیا کِیا کیا ہو گیا
عرض کا بھی اب تو مُنھ پڑتا نہیں
اپنی اِک میٹھی نظر کے شہد سے
دے خدا ہمّت کہ یہ جانِ حزیں
آپ ہم سے بڑھ کے ہم پر مہرباں
جو نہ بُھولا ہم غریبوں کو رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
