پھر بُلا کربلا، یاشہِ کربلا
تیرے دربار کو، اس کے انوار کو
میں نے چُومی نہیں ‘ کربلا کی زمیں
کوچۂ پاک کو، خَس کو خاشاک کو
ایسا پاؤں جُنُوں،دھڑکنوں میں سُنوں
ازپئے چار یار، اے شہِ ذی وقار
چشمِ نم دیجئے اپنا غم دیجئے
خواب میں آئیے، جلوہ دکھلائیے
اس گنہگار کو، خوار و بدکار کو
ابنِ شاہِ عرب!مرضِ عِصیاں سے اب
ایک مظلوم کو اپنے مغموم کو
میرے اُجڑے چمن پر کرم کی بھَرَن
دل کو مل جائے چَین المدد یاحُسین
اب ہو رخصت خَزاں ،کھِل اُٹھے گُلْ سِتاں
ذُوالفقارِ علی، جب عَدُو پر چلی
آہ!دشمن مرے،خوں کے پیاسے ہوئے
سن لو فریاد کو آؤ امداد کو
ہو مُیَسَّر امام اب شہادت کا جام
جانبِ کربلا کاش! عطارؔ کا
— Unknown
