لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
جان دے دو وعدۂ دیدار پر
شاد ہے فردوس یعنی ایک دن
یاد رہ جائیں گی یہ بے باکیاں
بے نشانوں کا نشاں مِٹتا نہیں
یادِ گیسو ذکرِ حق ہے آہ کر
ایک دن آواز بدلیں گے یہ ساز
سائلو! دامن سخی کا تھام لو
یاد ابرو کر کے تڑپو بلبلو!
مفلِسو! اُن کی گلی میں جا پڑو
گر یونہی رحمت کی تاویلیں رہیں
بادہ خواری کا سماں بندھنے تو دو
غم تو ان کو بھول کر لپٹا ہے یوں
مِٹ! کہ گر یونہی رہا قرضِ حیات
عاقلو! ان کی نظر سیدھی رہے
اب تو لائی ہے شفاعت عفو پر
اے رضاؔ ہر کام کا اِک وقت ہے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
