میں کیسے نہ مچلوں میں کیسے نہ جھوموں مدینے کا منظر میرے سامنے ہے
دل وجاں کا کعبہ جو میں نے بنایا خدا نے مجھے وہ حسیں در دکھایا
خوشی سے کریں کیوں نہ جزبات مجرا کہ ہے روبرو میرے آقا کا حجرہ
جہاں تاجور بن کے آئیں سوالی جہاں گونجتی تھی اذانِ بلالی
تصور میں آئیں وہ صدیوں کی باتیں وہ فخردوعالم کےدن اور راتیں
جو وقتِ سحرمیں نے قرآں کو کھولا جو میں نے عقیدت کی آنکھوں سے دیکھا
کھڑا ہوں میں ناصرؔ درِ مصطفیٰ پر کے کتنا کرم مصطفیٰ کا گدا پر
— Unknown
