میں گداۓ دیارنبی ہوں پوچھۓمیرے دامن میں کیا ہے
میری پلکوں پہروشن ستارے دےرہےہیں گواہی یہ سارے
میرے مولا تو خالق ہے میرا سچارازق ہےمالک ہے میرا
کہہ رہا ہوں انہیں کا قصیدہ ہے ازل سے یہ میرا عقیدہ
جب میں بچھڑادرمصطفیٰ سےہوبیاں کیسےلفظوں میں منظر
قدسیوں سے فلک نےجو پوچھا کیوں زمیں آج دلہن بنی ہے
جب بھی ناصر مجھے موت آۓمیری تربت پہ کتبہ لگانا
— Unknown
