آگئے ہیں مصطَفیٰ صلِّ علٰی خوش آمدید
سیِّد و سردارِ ما صلِّ علٰی خوش آمدید
مالک و مختارِ ما صلِّ علٰی خوش آمدید
گمرہی سے لو بچا اور سیدھے رستے پر چلا
مسُکراتی پھول برساتی اور اِٹھلاتی ہوئی
بُلبلیں ہیں نغمہ خواں اور پڑھ رہی ہیں قُمریاں
سبز پرچم چار سُو لہرا رہے ہیں جشن ہے
غم زدو غم کھاؤ مت اے بے کسو گھبراؤ مت
جھوم جاؤ بے کسو امداد کرنے آگئے
بے نواؤ آؤ تم، آؤ گداؤ آؤ تم
آمِنہ کے گھرپہ چلتے ہیں سب آؤمل کے ساتھ
بے کسو ں کے داد رس اے خلق کے فریاد رس
چشمِ رحمت کیجئے اپنی مَحبّتدیجئے
اپنا غم دے دیجئے اور چشمِ نم دے دیجئے
دردِ عِصیاں کی دوا دو تم شفا دو تم شِفا
گنبدِ خَضرا کے جلووں سے یہ دل آباد ہو
آپ کے قدموں میں آقا خاتِمہ بِالْخیر ہو
اب بقیعِ پاک میں دوگز زمیں دے دیجئے
جھوم کر ہاں جھوم کر عطارؔ لب کو چوم کر
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
