میں لجپالاں دے لَڑ لگیاں میرے توں غم پرے رہندے
خیالِ یار وچ میں مست رہنا ہاں دنِ راتی
کدی وی لوڑ نئیں پیندی مینوں در در تے جاون دی
دعا منگیا کرو سنگیو کیتے مرشد نہ رس جا وے
نیازی مینوں غم کاہدا میری نسبت ہے لاثانی
— Abdul Sattar Khan Niazi\
Manqbat lyrics in praise of Ahl al-Bayt
میں لجپالاں دے لَڑ لگیاں میرے توں غم پرے رہندے
خیالِ یار وچ میں مست رہنا ہاں دنِ راتی
کدی وی لوڑ نئیں پیندی مینوں در در تے جاون دی
دعا منگیا کرو سنگیو کیتے مرشد نہ رس جا وے
نیازی مینوں غم کاہدا میری نسبت ہے لاثانی
— Abdul Sattar Khan Niazi\
پار بیڑا لگائے آل رسول
جو ہیں اپنے پر ائے آل رسول
ٹھوکروں پہ نہ ڈال غیروں کی
تیرا باڑا ہے بٹ رہا جگ میں
جھولی پھیلائے ہے تِرا منگتا
دے دے چُمکار کر کوئی ٹکڑا
دَر سے اپنے نہ کر اُسے دُر دُر
دُور دوری کا دَور دَورا ہو
نگھرے در بدر بھٹکتے ہیں
تلخیاں ساری دور ہوجائیں
ہیں رضا غوث کے قدم بَقدم
جس نے پایہ تمہارا پایا ہے
اپنی قدموں کے نیچے ہے جنت
ان کی سیرت ہے سیرتِ نبوی
ان کے جلووں میں ان کے جلوے ہیں
آتے دیکھیں جو اعلیٰ حضرت کو
ہے بریلی میں آج مارہَرہ
قادِرِیُّوں کا ہے لگا میلہ
نوری مَسْنَد پہ نوری پُتلا ہے
چتھر رحمت کا شامیانہ ہے
ہیں پروں سے کیے ہوئے سایہ
ہیں گھٹا ٹوپ رحمتیں چھائیں
غوث کا ہاتھ ہے مریدوں پر
برکاتی برکات کا دولہا
برکاتی پیار کا سہرا
قادِرِیَّت دلہن بنی ، نَوشَہ
نور کا حلہ جوڑا شاہانہ
نور کی چہرے پر نچھاور ہے
بیل میری بھی اب مندھے چڑھ جائے
— Muhammad Hamid Raza Khan\
بغداد بلاؤ ! غوثِ پاک
تم خواب میں آؤ غوثِ پاک
دیوانہ بناؤغوثِ پاک
غیروں سے چھڑاؤ غوثِ پاک
عصیاں سے بچاؤ غوثِ پاک
تم نزع میں آؤ غوثِ پاک
ایمان بچاؤ غوثِ پاک
اب قبر میں آؤ غوثِ پاک
دوزخ سے بچاؤ غوثِ پاک
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
نواسۂ مصطفی، یاشہید کربلا
تم ہوآلِ مصطفی، یاشہید کربلا
مُتَّقی و پارسا، یاشہید کربلا
جب بھی تیرا سر جھکا، یاشہید کربلا
عاشقوں کا ہو بھلا، یاشہید کربلا
مصطفی کا واسطہ، یاشہید کربلا
گوسراپا ہوں خطا، یاشہید کربلا
آپ کیجئے دعا، یاشہید کربلا
کر بلا میں لو بلا، یاشہید کربلا
در پہ آ گئے گدا، یاشہید کربلا
دور ہو ہر بلا، یاشہید کربلا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
راکب دوشِ شہنشاہِ امم
فاطمہ کے لال حیدر کے پسر
اپنے نانا کی محبت دیجئے
خو مٹے بے کار باتوں کی رہے
اے سخی ابن سخی اپنی سخا
آل و اصحابِ نبی سے پیار ہے
پیشوائے نوجوانانِ بہشت
یاحسن! ایماں پہ تم رہنا گواہ
آہ! پلے میں کوئی نیکی نہیں
میرا دل کرتا ہے میں بھی حج کروں
طیبہ دیکھے اِک زمانہ ہوگیا
جذبہ دو ’’نیکی کی دعوت‘‘ کا مجھے
میں سدا دینی کتب لکھتا رہوں
دین کی خدمت کا جوش و وَلولہ
اے شہید کربلا کے بھائی جان
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
خائف کبریا، ہیں رضا ہیں رضا
سنیوں کے پیشوا، ہیں رضا ہیں رضا
صوفی باصفا، ہیں رضا ہیں رضا
خوبرو خوش ادا، ہیں رضا ہیں رضا
عاشق اولیا، ہیں رضا ہیں رضا
عالم با عمل، ہیں رضا ہیں رضا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
ہیں پیر پیراں غوثِ پاک
محبوبِ سبحاں غوثِ پاک
محبوبِ یزداں غوثِ پاک
مشکل ہو آساں غوثِ پاک
فرماؤ احساں غوثِ پاک
بلواؤ جاناں غوثِ پاک
جس وقت چلے جاں غوثِ پاک
پورا ہو جاناں غوثِ پاک
ہوجائے مری جاں غوثِ پاک
ٹل جائے شیطاں غوثِ پاک
اُف! حشر کا میداں غوثِ پاک
ہو میری جاناں غوثِ پاک
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
صاحب الاتقا، ہیں حسن مجتبیٰ
نواسۂ مصطفی، ہیں حسن مجتبیٰ
نورِ عین فاطمہ، ہیں حسن مجتبیٰ
خائف کبریا ، ہیں حسن مجتبیٰ
با خدا با صفا ہیں، حسن مجتبیٰ
جنتی بے شبہ، ہیں حسن مجتبیٰ
دلبرو دلربا ، ہیں حسن مجتبیٰ
سیّدوں کے پیشوا، ہیں حسن مجتبیٰ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
مجھا پیر نے پیشوا غوثِ اعظم
کرم غوثِ اعظم عطا غوثِ اعظم
مکے ہانے بغداد بَرکایو مرشد
عبادت رِیاضت، تلاوت سخاوت
مجھے غوث جی تاں، کُرو گھال کرنی
قدم گردنیں تے، بَدھے اولیا جی
خدا نے نبی رَہْن، راضی ہمیشہ
فنا تھی وِناں عشق میں آئیں جے کاش
کرم اَیڑھو تھے تِھین دیدار، مرشد
گناہیں جِی عادت، وِنے اَیڑھی کر جا
وَسیلو شہیدانِ کَرب و بلا جو
جڈے باغِ جنت میں مرشد وِنو آئیں
خدا صحت و عافیت سے نوازے
گنہگار عطاّرؔ کے بخشوایو
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
ہو نائبِ سرورِ دو عالم، امامِ اعظم ابوحنیفہ
ہے نام نُعمان ابنِ ثابِت، ابو حنیفہ ہے ان کی کنیت
جو بے مثال آپکا ہے تقوٰی، تو بے مثال آپکا ہے فتوٰی
گنہ کے دلدل میں پھنس گیاہوں گلے گلے تک میں دھنس گیاہوں
حسدکی بیماری بڑھ چلی ہے لڑا ئی آپس میں ٹھن گئی ہے
دِیارِ بغداد میں بُلا کر مزار اپنا دکھا جہاں پر
عطاہو خوفِ خدا خدارا دو الفتِ مصطَفٰے خدارا
ہے دھوم چاروں طرف سخاکی بھری ہے جھولی ہر ایک گدا کی
تمہارے دربارکا گداہوں ، میں سا ئلِ عشقِ مصطَفٰے ہوں
فضول گو ئی کی نکلے عادت ،ہو دوربے جا ہنسی کی خصلت
بَلا کا پَہرا لگا ہوا ہے، مصیبتوں میں گھرا ہوا ہے
شہا! عَدو کا ستم ہے پیہم، مدد کو آؤ امامِ اعظم
نہ جیتے جی مجھ پہ آئے آفت میں قبرمیں بھی رہوں سلامت
مروں شہا زیرِ سبز گنبد، ہو مدفن آقا بقیعِ غرقد
ہوئی شہا فردِ جُرم عائد، بچا پھنساہے تِرا مقلّد
جگر بھی زخمی ہے دل بھی گھا ئل، ہزار فکریں ہیں سو مسائل
— Unknown