ہے محمد میرا دل تو سینا علیؑ
صبح سے شام تک ہر پہر ہر گھڑی
رمز بقاۓ ہاشمی
جانم فداۓ حیدری
— Saleem Abbas\
Manqbat lyrics in praise of Ahl al-Bayt
ہے محمد میرا دل تو سینا علیؑ
صبح سے شام تک ہر پہر ہر گھڑی
رمز بقاۓ ہاشمی
جانم فداۓ حیدری
— Saleem Abbas\
آئیں جب خاتونِ جنت اپنے گھر
کام سے کپڑے بھی کالے پڑ گئے
دی خبر زَہرا کو اَسَدُ اللہ نے
ایک لونڈی بھی اگر ہم کو ملے
سن کے زَہرا آئیں صدیقہ کے گھر
پر نہ تھے دولت کدہ میں شاہِ دیں
گھر میں جب آئے حبیبِ کبریا
فاطمہ چھالے دکھانے آئی تھیں
آپ کو گھر میں نہ پایا شاہِ دیں
ایک خادم آپ اگر ان کو بھی دیں
سن لیا سب کچھ رسولِ پاک نے
شب کو آئے مصطفیٰ زَہرا کے گھر
ہیں یہ خادم ان یتیموں کے لیے
تم پہ سایہ ہے رسول اللہ کا
ہم تمہیں تسبیح اِک ایسی بتائیں
اوّلاً سُبْحٰن ۳۳ بار ہو
اور ۳۴ بار ہو تکبیر بھی
پڑھ لیا کرنا اسے ہر صبح و شام
خلد کی مختار راضی ہوگئیں
سالکؔ ان کی راہ جو کوئی چلے
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم
کوئی ان کے رُتبہ کو کیا جانتا ہے
تو ہے نور و آئینۂ مصطفائی
ہوئے اَولیا ذی شرف گرچہ لاکھوں
جہاں اَولیا کرتے ہیں جبہ سائی
ترے روضۂ پاک کے دیکھنے کو
مجھے بھی بلالو خدارا کہ میں بھی
مرے قلب کا حال کیا پوچھتے ہو
جو اہل نظر ہیں وہی جانتے ہیں
ہماری بھی لِلّٰہِ بگڑی بنا دو
ہیں گھیرے ہوئے چار جانب سے دشمن
چھپالے مجھے اپنے دامن کے نیچے
وہ ہے کون سا ان کے در کا بھکاری
حسین و حسن کی تو آنکھوں کا تارا
حکومت تری نافذہ ہے کہ حق نے
تجھے سب نے جانا تجھے سب نے مانا
تو وہ ہے ترے پاک تلوے کے آگے
نہ تھے مطلقاً اَولیا جس سے واقف
تری ذات سے اے شریعت کے حامی
شریعت طریقت کے ہر سلسلے میں
سلاسل کی سب منزلوں میں ہے پھیلی
غم و رنج میں نام تیرا لیا جب
کرم گر کرو میرے مدفن میں آؤ
الٰہی ترا کلمۂ پاک مجھ کو
بسوئے جمیلؔ اَز نگاہِ عنایت
— Jamil Ur Rehman Qadri\
یاالٰہی برائے آلِ رسول
سوکھے دھانوں پہ بھی برس جائے
سر سے قربان تجھ پہ آنکھوں سے
سَحَقِ نعلین رگڑا آنکھوں کا
میری بگڑی بنی ہے تیرے ہاتھ
تجھ سے جس کو ملا ملے پیارے
تیزیٔ مِہرِ حشر کا کیا خوف
بادشاہ ہیں گدا تِرے در کے
تاج والوں کا تاجِ عزت ہے
ٹھنڈی ٹھنڈی نسیمِ مارہرہ
بھینی بھینی سی مست خوشبو سے
طِیبِ طیبہ میں ہیں بسی کلیاں
بھولے بھٹکوں کا خِضر ہی تو ہے
سبز گنبد پہ اُڑ کے جا بیٹھوں
خاک میری اُڑے جو بعدِ فنا
اب تو گدْیَہ گروں کی چاندی ہے
خم سے آسَن جمائے درپہ گدا
— Muhammad Hamid Raza Khan\
یاشہیدِ کربلا فریاد ہے
آہ! سِبطِ مصطَفٰے فریاد ہے
بیڑا اَمواجِ تَلاطُم میں پھنسا
اُس علی اکبر کا صدقہ جو کہ ہیں
ہے مری حاجت میں طیبہ میں مروں
مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنا
ساقیِ کوثر کاصدقہ ساقِیا
دشمنوں کی دشمنی سے تنگ ہوں
حاسِدوں کا بڑھ گیا حد سے حسد
تھر تھراتا ہے کلیجہ خوف سے
راستے ہی میں بھٹک کر رہ گیا
دے دیاسارے طبیبوں نے جواب
میں نکّما ہوں نکمّے کو نبھا
نفس و شیطاں کی پکڑ میں آ گیا
دے علی اصغر کا صدقہ سرورا
جانکنی میں سختیوں پر سختیاں
پار اُتار اے راکِبِ دوشِ نبی
بے وفا دنیا کی الفت دور ہو
بَہرِ زَینب بے حیائی کا حضور
یا حُسین اسلامی بہنوں کو بنا
ہر طرف سے ہے بلاؤں کا ہُجوم
صبر کا پیمانہ اب لبریز ہے
مفلس و ناچار و خستہ حال ہوں
چھا گئی دل پر خَزاں پیارے حُسین!
حُبِّ سادات اے خدا دے واسِطہ
آفتوں پر آفتیں ہیں المدد
دین کی خدمت کا جذبہ دیجئے
سنّتوں کی ہر طرف آئے بہار
چل گئی بادِ مخالف اَلغیاث
کاش! ہو جاؤں مدینے میں شہید
بخت کی ہیں جس قدر بھی گتھیاں
کربلا کی حاضِری ہو پھر نصیب
حال ہے بے حال شاہِ کربلا
— Unknown
جان و دِل سے تم پہ میری جان قرباں غوثِ پاک
میں ترا اَدنیٰ بھکاری تو مرا سلطان ہے
میں ترا مَمْلوک تو مَالک میں بندہ تو ہے شاہ
سجدہ گاہِ اَولیائے دَہر ہے نقشِ قدم
اَولیا ہیں سب سلاطیں ہم رعایا و غلام
ہاتھ خالی رُوسیہ عاصی یہ سب کچھ ہوں مگر
آپ کی چشم کرم کا اِک اشارہ ہو اگر
ناز قسمت پہ کروں پاؤں جہاں کی سروَری
کب بلائیں اپنے دَر پر کب رخِ اَنور دکھائیں
میری آنکھیں تیرا گنبد تیری چوکھٹ میرا سر
زندگی میں نزع میں مرقد میں حشر و نشر میں
آپ کا نام مقدس میرے دل پر نقش ہے
ہم بھی عصیاں لے کے جائیں گے بدلنے کے لیے
کوئی پوچھے یا نہ پوچھے بات کچھ خطرہ نہیں
پرسش اَعمال کا ہے وقت مولے المدد
بھیجا تو نے ہی معین الدین چشتی کو یہاں
تیرے ہوتے ساتے آئے یوں مسلمانوں میں ضعف
کالے کالے کفر کے بادَل اُمنڈ کر آئے ہیں
لٹ رہا ہے قافلہ بغداد والے لے خبر
ظالموں نے ظلم سے بندوں کو کر ڈالا ہلاک
ہے کدھر آ دیکھ تو بندوں کی کیا حالت ہوئی
لاج والے سنیوں کی لاج تیرے ہاتھ ہے
ہو رضا پر لطف تیرا ہم پر اُن کا لطف ہو
کیجئے اِمداد عزت دوجہاں میں دیجئے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
ما و مَن سے بچائے آلِ رسُول
حق میں مجھ کو گُمائے آلِ رسول
میری آنکھوں میں آئے آلِ رسول
تو ہی جانے فدائے آل رسول
سات اَفلاک زینے پھر کرسی
چاندنا چاند کا مدینے کے
ہے اِرادہ تِرا اِرادئہ حق
بعد جس کے نہ ہو گا فقر کبھی
صِبْغَۃُ اللّٰہ کی چڑھی اپنی
اس کی نَیرنگیوں میں ہوں یک رنگ
ہو خودی دور اور خُدا باقی
موت سے پہلے مجھ کو موت آئے
یوں مٹوں میں کہ مجھ میں مٹ جائے
جیتے جی جی میں مَیں گزر جاؤں
بیڑی کٹ جائے ہر تَشَخُّص کی
یہ خودی بھی فدائے دعویٰ ہے
صورتِ شَیخ کا تَصَوُّر ہو
سَر تا پایم فدا سر و پایَت
دل و جانَم فدا سَرَتْ گردم
بھر دے قطرے کے سینے میں قُلزُم
حَقُّہٗ حق ہو ظاہر و باطن
دل میں حق حق زباں پہ حق حق ہو
حق کا دیوانہ ہادیٔ حق سے
فانی ہو جائوں شیخ میں اپنے
فَانِیْ فِی اللّٰہ بَاقِیْ باللّٰہ ہوں
یہ تَقَرُّبْ ملے نَوافِل سے
ہاتھ پاؤں ہو آنکھ کان ہو وہ
میرے اَعضا بنے مِرا مَولیٰ
اس سے دیکھوں سنوں چلوں پکڑوں
میری ہستی حجاب ہے میرا
قرب حاصل ہو پھر فَرائض کا
مُلکِ لَاہُوْتْ سے اِلَی النَّاسُوْتْ
سَیر فِی اللّٰہ اور مِنَ اللّٰہ ہو
پھر اِلَی اللّٰہ فنائے مُطلَق سے
قَیدِ نَاسُوْتْ سے رہائی ہو
شاخِ لَاہُوْتْ پر بسیرا ہو
— Muhammad Hamid Raza Khan\
یاغوث! بلاؤ مجھے بغداد بلاؤ
دنیا کی مَحَبَّت سے مِری جان چھڑاؤ
چمکا دو سِتارہ مری تقدیر کا مرشِد!
نَیّا مِری منجدھار میں سرکار! پھنسی ہے
حَسنین کے صدقے ہوں مری مشکلیں آساں
یاپیر!میں عِصیاں کے تلاطُم میں پھنسا ہوں
اچّھوں کے خریدار تو ہر جا پہ ہیں مرشِد!
اَحکامِ شریعت رہیں مَلحُوظ ہمیشہ
عطّارؔ جہنَّم سے بَہُت خوف زدہ ہے
— Unknown
یقینا مَنبعِ خوفِ خدا صِدّیقِ اکبر ہیں
نہایت مُتقی و پارسا صِدّیقِ اکبر ہیں
جو یارِ غار محبوبِ خدا صدّیقِ اکبر ہیں
طبیبِ ہر مریضِ لادوا صدّیقِ اکبر ہیں
امیرالمؤمنیں ہیں آپ امامُ المسلمیں ہیں آپ
سبھی اَصحاب سے بڑھ کر مقرَّب ذات ہے انکی
عمر سے بھی وہ افضل ہیں وہ عثماں سے بھی ہیں اعلیٰ
امامِ احمد و مالِک، امامِ بُو حنیفہ اور
تمامی اولیاء اللہ کے سردار ہیں جو اُس
سبھی عُلمائے اُمّت کے، امام و پیشوا ہیں آپ
خدا ئے پاک کی رحمت سے انسانوں میں ہر اک سے
ہلاکت خیز طُغیانی ہو یا ہوں موجیں طوفانی
بھٹک سکتے نہیں ہم اپنی منزل ٹھوکروں میں ہے
گناہوں کے مرض نے نیم جاں ہے کر دیا مجھ کو
نہ گھبراؤ گنہگارو تمہارے حشر میں حامی
نہ ڈر عطارؔ آفت سے خدا کی خاص رحمت سے
— Unknown
یا علیَّ المرتَضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا
صاحِبِ لُطف و عطا مولیٰ علی مشکلکُشا
علم کا میں شہر ہوں دروازہ اِس کا ہیں علی
جس کسی کا میں ہوں مولیٰ اُس کے مولیٰ ہیں علی
پیکرِ خوفِ خدا اے عاشقِ خیرُ الورٰی
بعدِ خُلفائے ثَلاثہ سب صَحابہ سے بڑا
قَلعۂ خیبر کا دروازہ اُکھاڑا آپ نے
پیکرِ جُودو سخا تُو میں فقیر وبے نوا
شَبَّر و شَبّیر کے والد ہوتم ماں فاطِمہ
میں گناہوں کا مریض اور آپ ہیں میرے طبیب
جان کو خطرہ ہے میری دشمنوں سے ہر گھڑی
حیدرِ کرّار! لے کے آؤ تیغِ ذُوالفِقار
مغفِرت کروایئے جنت میں لے کے جایئے
دل سے دنیا کی مَحبَّت دُور کر کے یا علی!
از پئے غوثُ الورا ہم کو نَجف بُلوایئے
شَبَّرو شبِّیر کے بابا مجھے دیدار ہو
اشکبار آنکھیں عطا ہوں دل کی سختی دور ہو
ایک ذرّہ اپنی اُلفت کا عنایت کر مجھے
بھیک لینے کیلئے دربار میں منگتا ترا
کیوں پھروں در در بھلا خیرات لینے کیلئے
نفسِ اَمّارہ ہو مغلوب اور سدا ناکام ہو
بے سبب بخشش ہو میری یہ دعا فرمایئے
کیجئے حق سے دعا ایمان پر ہو خاتمہ
— Unknown