سبز گُنبد کی زیارت کیجئے
گنبدِ خَضرا کے جلوے دیکھ کر
آگیا میٹھا مدینہ آگیا جھوم کر
مسجدِنبوی میں ہر دم بھائیو!
زائرو! رو رو کر ان کے سامنے
قلبِ مُضطَر چشمِ تَر سوزِ جگر
اَزپئے احمدرضا مجھ کو عطا
ازپئے غوثُ الورٰی یامصطَفٰے
از طفیلِ مرشدی دل سے مِرے
فاطِمہ زَہرا کا صَدقہ مجھ سے دور
دُور غم دنیا کے فرما دیجئے
اپنے اَخلاقِ کریمہ سے مجھے
دردِ عِصیاں کی دوا کیجے عطا
عادتِ عِصیاں نہیں جاتی حضور
مجھ کو توفیقِ عبادت ہو عطا
سنّتوں کی ہر طرف آئے بہار
یانبی! مجھ کو! بقیعِ پاک میں
ہُوں نہایت ہی ضعیف و ناتُواں
ہو عطا سوزِ بِلال آقا مجھے
گُھپ اندھیرے میں ہوں تنہا اَلمدد
عیب محشر میں نہ کُھل جائیں کہیں
گرمیِ محشر سے جاں ہے مُضطَرِب
مجرِموں کی صَف میں ہوں آقا کھڑا
کربلا والوں کے صدقے مجھ سے دور
مختصر سی زندگی ہے بھائیو!
گر رِضائے مصطَفٰے درکار ہے
سُنَّتیں اپنا کے حاصِل بھائیو!
عیدِ مِیلادُالنَّبی پر بھائیو!
ہِجر کے ماروں پہ بھی چشمِ کرم!
میرے چہرے پر کفن ڈھک دیجئے
اب نِقابِ رُخ اُلٹ دیجے حُضُور
حاضِرِ دربار پھر بدکار ہے
بڑھتے جاتے ہیں گنہ عطارؔ آہ!
سبز گنبد پر فِدا ہوجایئے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
