یہ دھج، یہ روپ، یہ بل، کل من علیہا فان٭
ضیا جالندھری
— Zia Jalandhari\
یہ دھج، یہ روپ، یہ بل، کل من علیہا فان٭
ضیا جالندھری
— Zia Jalandhari\
حشر میں جب انکو سجدے سے اٹھایا جائے گا
کچھ تو انکی جنبشِ لب سے رہا ہوجائیں گے
حضرت حسان کی ہمسائیگی کے واسطے
جب سواری سیدہ زہرا کی آئی حشر میں
حشر کی غایت ہیں نازش اور کیا اس کے سوا
— Unknown
خدا مل جاۓ گا، نکلو گے جب سوۓرسول اللہ
کہاں ہے نور کی صورت بجزروۓرسول اللہ
حقیقت فہم انسانی میں آئی ہے نہ آۓ گی
خدا آیا ہے کس کے سامنےایمان لانے کو
تجلی گاہِ وحدت سے چمن زارِ ولایت تک
مشامِ جاں کو مہکاتی ہے خوشبو شوق جب کوئی
— Khawaja Shouq\
کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
دل کی بستی اور ارمانوں کی دنیا چھوڑ کر
گھر سے پہنچے اُن کے روضے پر تو ہم کو یوں لگا
کون نظروں پر چڑھے حُسنِ حقیقت کے سوا
اللہ اللہ آمدِ سلطانِ انس و جاں کی شان
مصطفی جنّت میں جائیں گے نہ اُمّت کے بغیر
تھی نہ چاہت دل میں زَہرا کے دولاروں کی اگر
رہروانِ راہِ حق تھے اور بھی لاکھوں ، مگر
اُن صحابہ کے اس اندازِ قناعت پر سلام
وہ ازل سے میرے آقا ، میں غلام ابنِ غلام
خوانِ شاہی کی ہوس رکھتے نہیں ان کے گدا
وہ سلامت اور اُن کا در سلامت تا ابد
میں کہاں گھوموں ، کہاں ٹھہروں ، کسے دیکھا کروں
اتّفاقاََ گر چلے جاتے وہ ساحل پر کبھی
ذہن میں رکھیے وہ ارشادِ نبی وقتِ وصال
اے مسلماں ! ہے یہی حکمِ خدا و مصطفی
پوچھنے پھر کون آئے گا نصیرؔ ان کے سوا
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی
— Peer Naseer Ud Din Naseer\
خدا جانے حدیں مازاغ نظروں کی کہاں تک ہیں
زمانہ بھی نہ تھا جب سے نبوت ان کی جاری ہے
جمال مصطفیٰ کا ہے مکمل جائزہ کس کو
پتہ کس کو چلا اب تک تمہاری جلوہ گاہوں کا
چمک اٹھے سبھی وابستگی پاۓ اقدس سے
حقیقت بےنظردانشوری سے شوق پنہاں ہے
— Khawaja Shouq\
خزاں کے مارے ہوۓ جانب بہار چلے
وہیں پہ تھام لیا ان کو دستِ رحمت نے
اے تاجدار جہاں اے حبیب رب کریم
ہمارے پاس ہی کیا تھا جو نزرکرتے انہیں
ریاض ان کے کرم سے ہوئی ہے جیت اپنی
— Syed Riaz Ud Deen Saharwardi\
انؐ کے قدموں سے لپٹ جاؤں قضا سے پہلے
کیف میں ڈوبی رہے شہرِ تغزّل کی فضا
لفظ جتنےہوں غلامی کا عمامہ باندھیں
چوم لوں حضرتِ حسان کے آثارِ قلم
تنگ دامانی کا احساس ہے اب تک کتنا شدید
انؐ کی تعظیم مقدم ہے سخن دانی پر
انؐ کے انوار سےروشن ہےخلا کا سینہ
موسم عشق کےآداب وفا بھی سیکھو
مسخ ہوتی ہوئی اقدار کےپس منظرمیں
اہل طائف کی شقاوت، وہ پیمبرؐ کی دعا
پتنہ وشرسےمکدرسےفضا گھرکی حضورؐ
خشک ہےکب سے مرے خطۃ دل کی مٹی
مسند عدل پہ فائز ہے ہوس میرے حضورؐ
سربرہنہ ہے ابھی میری زمیں کی ممتا
کبر و نخوت کےکبھی پیڑوں کاٹوٹےجادو
حاضری اس در اقدس کی بھی لازم ہےریاضؔ
— Riaz Hussain Chaudhary\
خداۓ پاک کا قوسین کب ٹھکانا ہے
حرا بھی کُنتُ نبّیاً کا جلوہ خانہ ہے
شہود و غیب ہیں دونوں تجلیاں ان کی
خدا کی جلوہ گری کا عجب فسانہ ہے
کسے ہے منزل قوسین کی خبراب تک
تمہی ہومقصدِ تخلیقِ کائنات آقا
رموز جادۃ عشق رسول ایسے ہیں
کڑی ہے دھوپ تو کیا حادثات عالم میں
نبی شناس تو ہیں ہر زمانے میں لیکن
بشر کی فکر و نظر شوق کام کیا دے گی
— Khawaja Shouq\
میثاق عشق کا ہے وثیقہ بھی روشنی
شہرِ نبیؐ تو شہرِ نبیؐ ہے، مرے رفیق
شہرِحضورؐ کا ہے تصوربھی چاند رات
طیبہ میں کھیلتے ہوۓ بچوں کےہاتھ میں
جس پر لکھوں گا اسم گرامی حضورؐ کا
مامور تھی خدا کی طرف سےجو، یا نبیؐ
جس کو صبا لپیٹ کے آنچل میں لائی ہے
توصیف مصطفیٰ کی کتاب سخن ہے نور
جو روشنی فصیل ہے شہر حضورؐ کی
نقش کفِ نبیؐ کی تلاشِ عظیم میں
لوح وقلم بھی نور کے پیراہنوں میں ہیں
نعتِ حضورؐ چشمۃ انوار ہے مگر
جس میں مرا قلم بھی مناتاہے رت جَگے
رہتی ہےہرگھڑی درِ اقدس کے آس پاس
— Riaz Hussain Chaudhary\
ان کے دربار پہ جو لوگ صدا ہیں
جھوم اٹھتی ہے سرِعرش خدا کی رحمت
مرے آقا کو مدینے میں نہ محدود کرو
ذکر سرکار میں تو ذکرخدا ہے واللہ
اپنی چادر کو بچھا دیتے ہیں غیروں کے لۓ
مطمئن ہوں کہ بچا لیں گے سر حشر مجھے
موت آتی ہے فقط ان کی زیارت کے لۓ
ڈھانپ لیتے ہین وہ دامان کرم سع ناصر
— Unknown