یہ وہ در ہے کہ جہاں دل نہیں توڑے جاتے
یہ ہے آقاﷺ کی عنایت وہ کرم کرتے ہیں
شہر سرکارﷺ کی خاک کے ہم ذرے ہوتے
انکی دہلیز کے منگتے بڑی موج میں ہیں
اپنا مدفن جو مقدر سے بن جاتا بقیع پاک
— Unknown
یہ وہ در ہے کہ جہاں دل نہیں توڑے جاتے
یہ ہے آقاﷺ کی عنایت وہ کرم کرتے ہیں
شہر سرکارﷺ کی خاک کے ہم ذرے ہوتے
انکی دہلیز کے منگتے بڑی موج میں ہیں
اپنا مدفن جو مقدر سے بن جاتا بقیع پاک
— Unknown
سیرگلشن کون دیکھےدشت طیبہ چھوڑکر
سرگزشتِ غم کہوں کس سےترے ہوتےہوۓ
مرہی جاؤں میں اگراُس درسےجاؤں دوقدم
بخشوانا مجھ سے عاصی کا رواہوگا کسے
ایسے جلوےپرکروں میں لاکھ حوروں کا نثار
مرکےجیتےہیں جو اُن کےپہ جاتے ہیں حسنؔ
— Unknown
محمد ﷺ کا گر اک سہارا نہ ہوتا
وہ صلِ علی اک ہمارے ہوۓ تو
ٹھکانہ نہ ہوتا کہیں عاصیوں کا
اگر آپﷺ کی چشم رحمت نہ ہوتی
کسے نعت کہنے کی توفیق ہوتی
— Unknown
صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
خلد وزمین و آسماں ڈوبے ہوۓ ہیں نور میں
صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
عشق نبی کی عظمتیں جس کے نصیب ہو گئیں
صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
اُن کے کمال ہی سے ہے سارا کمالِ کائنات
صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
جن کے تمام انبیاء کرتے رہے ہیں تذکرے
صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
صائم اگر ہو منتظر اُن کے درودِ پاک کے
صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ
— Unknown
کیاخبرکیاسزامجھ کوملتی، میرےآقانےعزت بچادی
وہ عطا پرعطا کرنےوالےاورہم بھی نہیں ٹلنےوالے
میں گداہوں ،گرکس کے درکا، وہ جوسلطان کون و مکاں ہیں
میں مدینےسےکیا آگیاہوں، زندگی جیسےبجھ سی گئی
میری عمررواں بس ٹھہرجا، اب سفرکی ضرورت نہیں
میں فقط نام لیواہوں ان کا،ان کی توصیف میں کیا کروں گا
— Iqbal Azeem\
سدا بیٹھےرہیں بسترلگاکر ان کے کوچے میں
نہ کوئی آرزو آۓگی لب پر پھر دعا بن کر
خدا انوار و رحمت کے خزینےکھول دیتا ہے
صدا کرنی درِمحبوب پر اچھی نہیں لگتی
ہزاروں تاجور لاکھوں سکندرہم نے دیکھےہیں
درِ محبوب سے انوار کی خیرات لینے کو
مری بےتاب حسرت کو قرار آجاۓ گا ناصرؔ
— Unknown
کسی کو کچھ نہیں ملتا تری عطا کے بغیر
کہو گدا سے، نہ دستِ طلب دراز کرے
ہےذرّےذرّے میں بےشک ظہورِنورِ قدیم
نماز میں نہیں شامل اگر سرور حضورﷺ
اسی سبب سے انہیں درگزر کی عادت ہے
ہر ایک چیز میسروطن میں تھی لیکن
میں سوچتا ہوں کہ اعظم شب طویل حیات
— Muhammad Azam Chishti\
در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
اے کاش مدینے میں مجھے موت یوں آۓ
اے پیارے خدا دیکھوں میں سرکار کا جلوہ
جب دور سے ہے اتنا حسیں گنبدِ خضریٰ
طیبہ کی سعادت تو یوں پاتے ہیں ہزاروں
آجائیں میرے گھر میں اگر رحمت عالم
پائی ہے منور نے قضا در پہ نبی کے
— Unknown
نگاہِ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں
ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا
تمہاری اک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
جو سر پہ رکھنے کو مل جاۓ نعلِ پاک حضور ﷺ
ادھر بھی تو سن اقدس کے دو قدم جلوے
ہماری بگڑی بنی ان کے اختیار میں ہے
حسن ہے جن کی سخاوت کی دھوم عالم میں
— Unknown
زہے عزت و اعتلاۓ محمد ﷺ
مکان عرش اُن کا فلک فرش اُن کا
خدا کی رضا چاہتے ہیں دوعالم
عجب کیا اگر رحم فرماۓ ہم پر
محمد ﷺ براۓ جنابِ الہی
بسی عطر محبوبیء کبریا سے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\