کس بات کی کمی ہے مولیٰؐ تری گلی میں
جام سفال اس کا تاج شہنشاہی ہے
دیوانگی پہ میری ہنستے ہیں عقل والے
سورج تجلیوں کا ہردم چمک رہا ہے
موت اور حیات میری دونوں ترے لیے ہیں
امجد کو آج تک ہم ادنیٰ سمجھ رہے تھے
— Unknown
کس بات کی کمی ہے مولیٰؐ تری گلی میں
جام سفال اس کا تاج شہنشاہی ہے
دیوانگی پہ میری ہنستے ہیں عقل والے
سورج تجلیوں کا ہردم چمک رہا ہے
موت اور حیات میری دونوں ترے لیے ہیں
امجد کو آج تک ہم ادنیٰ سمجھ رہے تھے
— Unknown
کوئی محبوب کبریا نہ ہوا
روزنِ دل سے جھانکنے والے
کون ہے اس کا،تونہیں جس کا
حق نے کب تیری بات ٹالی ہے
تجھ پہ کیا کیا ستم ڈھاۓ نہ گۓ
ہم پہ کتنا وہ مہرباں ہو گا
ضبط کے تار ٹوٹ ٹوٹ گۓ
تھی یہی غایت حیات اعظم
— Muhammad Azam Chishti\
اللہ کا گھر خلد کا نقشہ نہیں دیکھا
امت کے لیے اپنے نواسوں کو لٹا دے
اے موت مری موت ابھی اور ٹھہر جا
جبریل امیں سنتے ہیں یوں ذکرِ مدینہ
رضواں تیری جنت میں میرا جی نہیں لگتا
ہر وقت خیالوں میں نگاہوں میں رہے وہ
اے رازؔ مٹے کیسے مرے دل کا اندھیرا
— Unknown
دل میں ہو یاد تیری گوشہء تنہائی ہو
آستانہ پہ تیرے سرہواجل آئی ہو
اُس کی قسمت پہ فدا تختِ شہی کی راحت
اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
آج جو عیب کسی پر نہیں کھلنے دیتے
یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے
کبھی ایسا نہ ہوا ان کے کرم کے صدقے
بند جب خواِ اجل سے ہوں حسنؔ کی آنکھیں
— Unknown
کرےجو دور سوہنےتوں اوہ دولت کون منگدااے
خیال امت دا نہیں رکھدے جےخود آقاﷺ تےدس مینوں
سنا کے نعت آقا ﷺ دی پتا لکھاں دا کیتا اے
مدینے شہر دا پانی جیویں کوثر دا پانی ایں
جے وچ فردوس دےہووےنبی دا قرب لیکھاں وچ
جے خودقدماں دےوچ رکھےنبیﷺ سوہنا غلاماں نوں
جے ککھ رہ جان محشروچ نبی دے سامنےناصر
— Syed Nasir Hussain Chishti\
مرا دل اور مری جان مدینے والےؐ
تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو کہاں میں جاؤں
بھردے بھردے مرے داتا مری جھولی بھردے
آڑے آئی ہے تری ذات ہر اک دکھیا کے
پھر تمناۓ زیارت نے کیا دل بے چین
سگِ طیبہ مجھے سب کہہ کے پکاریں بیدم
— Bedam Shah Warsi\
ذکرکرتا ہوں میں آپ کاہرگھڑی یانبی یانبی یانبی یانبی
کیا کہوں آپ کی شانِ جلوہ گری یانبی یانبی یانبی یانبی
آپ سےہوگئ جس کووابستگی یانبی یانبی یانبی یانبی
صد ظہور سحرہےظہورآپ کاسارے عالم میں پھیلا ہے نور آپ کا
آپ کے درکے سائل ہیں شاہ گدا رحمتیں بٹ رہی ہیں یہاں پرسدا
سبز گنبد پہ نظریں جماؤں کبھی تیرےروضےکے قربان جاؤں کبھی
انبیاءکےلبوں پرترےتذکرےحوروغلماں کےہونٹوں پہ نغمے ترے
شہرِ یار ارم سید ذی حشم افضل خستہ جاں پہ بھی چشم کرم
— Unknown
جہاں میں سب سے اونچا ہےمیرے سرکار کا جھنڈا
فرازِ عرش پربھی اڑرہا ہےشان وشوکت سے
اتر کرعرش سے جبریل نے کعبے کی رفعت پر
خبر اس بات کی اے منکرو شاید نہیں تم کو
قسم اللہ کی وہ شخص ہے سرکار کا عاشق
بچاۓگا بروزِ محشروہ امت کو گرمی سے
ازل سےاس کی عظمت پرتصدق ہوں میں اے عابدؔ
— Unknown
اِدھر چوم لوں گا اُدھر چوم لوں گا
ہے چامان تسکین جاں اُن کا سایہ
جو سجدہ گہہ قدسیان فلک ہے
ہیں جس میں بسےسبزگنبد کے جلوے
نسیم شفاعت کے آئیں گے جھونکے
سناۓ گا جب تو نویدِ حضوری
مجھے لاکھ روکے کوئی چومنے سے
جو اک بار روکا مجھے چومنے سے
— Unknown
کعبے میں جوسنی ہے اذاں، پھر سنائی دے
ہر سانس چومتی رہے احمد ﷺ کا آستاں
روضے کےسامنےپڑھوں جی بھرکےمیں درود
اک بار پھر سے گنبدِ خضریٰ کو دیکھ لوں
عاصی، گنہگار، خطاکار ہے حسن
— Hassan Rizvi\