جلوہ نہیں ہے نظم میں حسنِ قبول کا
حق کی طلب ہے لچھ، تو محمدؐ پرست ہو
مطلوب ہے زمان و مکان و جہان کا
جن مرد ماں کو آنکھیں دیاں ہیں خدا نے وے
مقصود ہے علی کا ولی کا، سبھی کا تو
— Meer Taqi Meer\
جلوہ نہیں ہے نظم میں حسنِ قبول کا
حق کی طلب ہے لچھ، تو محمدؐ پرست ہو
مطلوب ہے زمان و مکان و جہان کا
جن مرد ماں کو آنکھیں دیاں ہیں خدا نے وے
مقصود ہے علی کا ولی کا، سبھی کا تو
— Meer Taqi Meer\
وہ کیسا سماں ہو گا، کیسی وہ گھڑی ہوگی
یہ کوچہ جاناں ہے آہستہ قدم رکھنا
کیا سامنے جاکے ہم حال اپنا سنائیں گے
کچھ ہاتھ نہ آۓ گا،آقا سے جدا رہ کر
وہ شیشہ دل غم سے میلاد نہ کبھی ہو گا
ہوجاۓ جو وابستہ سرکار کے قدموں سے
چارہ نہ کوئی کرنا اک نعت سنا دینا
— Muhammad Ali Zahoori\
جس وقت نہ دنیا کی کوئی بات رہے گی
جس وقت گدا ہوں گے نہ کشکول رہیں گے
جس وقت کہیں محفلِ عشاق سجے گی
جس گھر میں نہیں ہوں گے ترے حسن کے چرچے
جو شخص محمدﷺ کی ثناء خوانی کرے گا
ہر ایک اندھیرے کے مقدر میں ہے جانا
اس بات پہ ہے ناز سدا ناز کریں گے
ناصرؔ تو درودو کے سجا لب پہ ترانے
— Unknown
محمد ﷺ کا نہ در ملتا دیوانے کہاں جاتے
اگر نہ مشعل وحدت جہاں میں جلوہ گر ہوتی
غریبوں بے سہاروں کو اگر نہ آسرا ملتا
اگر اپنوں کو ہی لیتے محمد ﷺ ظلِ رحمت میں
اگر روداد غم سنتے نہ حضرت ﷺ بے نواؤں کی
اگر نہ رحمت عالم کے قدموں میں جگہ ملتی
اگر ہوتے جبینوں پہ نہ سجدوں کے نشان مسلم
— Unknown
وہ دن آۓگا اک بارمیں مدینےجاؤں گا
شاہ مدینہ رحمت عالم نبیوں کے سردار
مجھ کو یقین ہےکرم کریں گےآمنہ بی کےلال
دیکھ کے مجھ عاصی کوان کوآجاۓ گا پیار
کیا غم ہے جکڑےہوۓہےدوری کی زنجیر
دیکھا نہیں ان کادر اب تک کیا ہوگا انجام
— Aleem Udeen Aleem\
نبیؐ کون یعنی رسول کریمؐ
ہوا گو کہ ظاہر میں امی لقب
بغیر از لکھے اور کۓ بے رقم
کیا حق نے نبیوں کا سردار اسے
لکھا اشرف الناس خیر الانام
کروں اس کے رتبے کا کیا میں بیاں
محمدؐ کے مانند جگ میں نہیں
— Meer Hassan Dehlvi\
میں کیسے نہ مچلوں میں کیسے نہ جھوموں مدینے کا منظر میرے سامنے ہے
دل وجاں کا کعبہ جو میں نے بنایا خدا نے مجھے وہ حسیں در دکھایا
خوشی سے کریں کیوں نہ جزبات مجرا کہ ہے روبرو میرے آقا کا حجرہ
جہاں تاجور بن کے آئیں سوالی جہاں گونجتی تھی اذانِ بلالی
تصور میں آئیں وہ صدیوں کی باتیں وہ فخردوعالم کےدن اور راتیں
جو وقتِ سحرمیں نے قرآں کو کھولا جو میں نے عقیدت کی آنکھوں سے دیکھا
کھڑا ہوں میں ناصرؔ درِ مصطفیٰ پر کے کتنا کرم مصطفیٰ کا گدا پر
— Unknown
مِرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
وہ شرح احکام حق تعالیٰ
شعور لایا کتاب لایا
وہ علم کی اور عمل کی حد بھی
وہ آدمؑ و نوحؑ سے زیادہ
بس ایک مشکیزہ اک چٹائی
— Unknown
ہم نےسینےمیں مدینہ یوں بسا رکھا ہے
واردوں جان میں طٰہٰ کی حسین آنکھوں پر
بس اسی ذات سےہےدونوں جہاں میں رونق
کفر ہے گرتوکہے مردہ میرے آقا کو
وہ ٹھکانے ہیں دیوانوں کو خدا نے بخشے
سرکٹا کروہ تلاوت بھی کیا کرتےہیں
آ ہی جاتے ہیں وہ دیوانوں سےملنےکوسمیر
— Sameer Aftab\
ہے سورۃ الشمس اگر روۓ محمدؐ
جب روۓ محمدؐ کی نظر آئی تجلی
ماہِ نو شوال سے عاشق کو کہاں عید
کس وضع اٹھاۓ ہوۓ ہیں بارِ دو عالم
تھا بیش بہا عشق کے بازار میں یوسف
کعبے کی طرف منہ ہو نمازوں میں ہمارا
ہر نخل بیابانِ عرب مجھ کو ہے طوبیٰ
رضواں کے لیے لے چلو سوغات شہیدیؔ
— Meer Karamat Ali Khan\