نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہار عارِض
میں تو کیا چیز ہوں خود صاحبِ قرآں کو شہا
جیسے قرآن ہے وِرد اس گلِ محبوبی کا
گرچہ قرآں ہے نہ قرآں کی برابر لیکن
طُور کیا عرش جلے دیکھ کے وہ جلوۂ گرم
طرفہ عالم ہے وہ قرآن اِدھر دیکھیں اُدھر
ترجمہ ہے یہ صفت کا وہ خود آئینۂ ذات
جلوہ فرمائیں رخِ دل کی سیاہی مِٹ جائے
نامِ حق پر کرے محبوب دل و جاں قرباں
مشک بو زلف سے رُخ چہرہ سے بالوں میں شعاع
حق نے بخشا ہے کرم نذرِ گدایاں ہو قبول
آہ بے مایگیِ دل کہ رضاؔئے محتاج
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
