کوئی گُل باقی رہے گا، نے چمن رہ جاۓ گا
ہم صفیرو باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں ہو تم
جو پڑھے گا صاحب لولاک کے اوپر درود
سب فنا ہو جائیں گے کافی و لیکن حشر تک
— Kafi Shaheed Murad Abad\
کوئی گُل باقی رہے گا، نے چمن رہ جاۓ گا
ہم صفیرو باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں ہو تم
جو پڑھے گا صاحب لولاک کے اوپر درود
سب فنا ہو جائیں گے کافی و لیکن حشر تک
— Kafi Shaheed Murad Abad\
میرا پیر میرا پیر میرا پیر میرا پیر میرا پیر
ریس کرے کون میرے سوہنے دلدار دی
مُرشد دا دیدار رہے باہو لکھ کروڑاں حجاں ھو
جلوہ ویکھو مرشد دا سینہ پیا ٹھار دا
میرے سوہنے مرشد دا سبز عمامہ اے
سوہنا سوہنا چہرہ ویکھو لشکارے پیا مار دا
چور ڈاکو آؤندے نیں نمازی بن جاندے نیں
مِٹھا مُرشد ویکھو یارو تقدیراں ہے سنوار دا
لکھاں نوجواناں نوں داڑھیاں رکھوایاں نیں
سُنتاں سکھا نا کم مرشدی عطار دا
ناں میں سوہنا نہ گُن پلے کراں مان میں کِس گلے
نظر کرم ہن کر دو مرشد مان رکھو بدکاردا
گناہواں دے سیلاب وچ غوطے اسیں کھاندے ساں
صدقہ غوثِ پاک دا مرشد بیڑے تار دا
استقامت چاہنا ایں نگران دی اطاعت کر
ربّ کولوں منگ مُرشدی عطار دا
قافلے چہ جایا کر مرشد دا فیضان اے
مشکل تیری ٹل جانی بیڑا تیرا پار اے
مل جاۓ نیکی دا جذبہ جاواں شہر، گاؤں، قصبہ
صدقہ اعلیٰ حضرت دا، صدقہ وقار دا
یاد مدینے دی سانوں بڑی تڑپاؤندی اے
ہجر مدینہ دے وچ عاشق سینہ پیا ساڑ دا
نہ دو دولت نہ دو مال عشقِ آقا ﷺ دا اے سوال
مل جاۓ بس غمِ مدینہ نئیں مانگتا کاروباردا
— Unknown
جس میں آقا کی بات ہوتی ہے
ہاں وہ سمجھو قبول محفل ہے
نام نامی جو اُن کا لے کوئی
ہم فقیروں کی جھولیوں میں تو
ذکر خیرالوریٰ بھی ہو جس میں
اُن کے چہرے سے دن نکلتا ہے
اُن کے لب سے نکلتی ہے جو بھی
ہم فقیروں کی لاج اے ناصرؔ
— Unknown
وہ دن بھی بھلا ہوگا قسمت بھی بھلی ہوگی
مہکی ہےفضا ساری سرکارکی خوشبو سے
محسوس یہی ہوگا دن پھر سے نکل آیا
خوش بخت حلیمہ پررشک آیا دوعالم کو
روشن وہ سدا ہوگا ظلمت کی گھٹاؤں میں
ہر شریں زباں ان کی گفتار پہ وارفتہ
مقبول ظہوری وہ محفل ہےسدا جس میں
— Muhammad Ali Zahoori\
ہوا حمدِ خدا میں دل جو مصروفِ رقم میرا
رہے نام محمدؐ لب پہ یا رب اول و آخر
محبت اہلِ بیتِ مصطفیٰ کی نور برحق ہے
دکھائی مجھ کو راہِ زرع اصحاب پیمرؐ نے
کہیں شاہ نجف کے عشق میں دل میرا ڈوبا تھا
شہِ بغداد کا خطِ غلامی ذوق رکھتا ہوں
— Muhammad Ibrahim Zauq\
نہ کلیم کا تصورنہ خیال طورِ سینا
میں گداۓ مصطفیٰﷺ ہوں مری عظمتیں نہ پوچھو
میں مریض مصطفیٰ ﷺ ہوں مجھے چھیڑو نی طبیبو!
مجھے دشمنو! نہ چھیڑو میرا ہے جہاں میں کوئی
مرے ڈوبنے میں باقی نہ کوئی کسر رہی تھی
سوا اس کے میرے دل میں کوئی آرزو نہیں ہے
کبھی اے شکیل دل سے نہ مٹے خیالِ احمد ﷺ
— Unknown
ہیں رحمتوں کی بارشیں طیبہ میں جا کے دیکھ
صدقہ وہاں پہ بٹتا ہے ہر وقت دوستو
جو سکون کی تلاش ہے آقا کا بن گدا
آقا کی نعت پڑھتا تو سنت خدا کی ہے
طیبہ کی برکت کےلیے آقا نے کی دعا
رحمت کی چھم چھم بارشیں ہوں گی تیرے بھی گھر
ہو جاۓ گا سینہ تیرا پر نور دوستا
عرفان ثاقبؔ تیرےبھی دھل جائیں گےگناہ
— Unknown
واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
دھارے چلتےہیں عطا کے وہ ہےقطرہ تیرا
فیض ہے یا شہ تسنیم نرالا تیرا
اغنیا پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑا تیرا
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہومالک کےحبیب
تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں
چور حاکم سے چھپاکرتے ہیں یا اس کے خلاف
تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکرپہ نہ ڈال
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
دلا دریاۓ رحمت قطرہ ہے آبِ محمدؐ کا
قدِ رعنا جب اپنا خم کیا بہرِ نماز اس نے
کیا پیرِ خرو نے موجبِ خم پشت گردوں کا
ادا کس کی زباں سے ہو سکے شکر اس کی نعت کا
ہوا ہے کیا کچھ اہلِ بیت پر سودا نہ دم مارا
— Mirza Muhammad Rafi Sauda\
نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں، نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہا در پہ بلا لیا، جسے چاہا اپنا بنا لیا
وہ بھٹک کے راہ میں رہ گئی، یہ مچل کے در سے لپٹ گئی
تجھے اے منور بے نوا درِ شہؐ سے چاہیے اور کیا
— Unknown