تجھے رب نے کیا بنایا مکہ مدینے والے
تیرا فئض عام جاری تیری زندگی نرالی
کہا سب نے نفسی نفسی تیرے لب پہ ربی ہنلی
نہ کوئی بتا سکا ہے نہ کوئی بتا سکے گا
ہے دعاۓ اہلسنت کہ جہاں میں رنگ و بو ہیں
ہے ی فاطمہؑ کا صدقہ میں تیرے نسب کا حصہ
— Unknown
تجھے رب نے کیا بنایا مکہ مدینے والے
تیرا فئض عام جاری تیری زندگی نرالی
کہا سب نے نفسی نفسی تیرے لب پہ ربی ہنلی
نہ کوئی بتا سکا ہے نہ کوئی بتا سکے گا
ہے دعاۓ اہلسنت کہ جہاں میں رنگ و بو ہیں
ہے ی فاطمہؑ کا صدقہ میں تیرے نسب کا حصہ
— Unknown
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
یہ زمیں جب نہ تھی آسماں جب نہ تھا
پہنچے معراج پر سرورِ انبیاء
سارے عالم میں قبضہ ہے قدرت تیرا
تائرانے جنا میں تیری گفتگو
— Unknown
آپ آئے تو زمانے کو اجالا کردیا
الفت آقاؐ میں ہم نے دل دوانہ کردیا
پوچھتا کوئی نہ تھا مجھ بے ہنر کو جب شہا
مکہ سے طیبہ کی ہجرت شان و شوکت لاجواب
پیاسے جتنے بدر کے میدان میں اصحاب تھے
یوں تو دنیا میں حبیبی انبیاء آۓ بہت
— Sarfaraz Habibi\
خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اٹھاتے ہیں حسینؑ
جب گذرتی ہے کسی دشوار منزل سے حیات
محسنِ انسانیت ہیں نو نہال مصطفیٰﷺ
خاک میں مل جاۓ گا اک آن میں تیرا غرور
— Unknown
اج سک متراں دی ودھیری اے
آلوں لوں وچ شوق چنگیری اے
الطیف سری من طلعتہ
فسکرت ھنا من نظرتہ
مکھ چند بدر شعشانی اے
کالی زلف تے اکھ مستانی اے
دو ابرو قوس مثال دسن
لباں سرخ آکھاں کہ لعل یمن
اس صورت نوں میں جان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
دسے صورت راہ بے صورت دا
ایہا صورت شالا پیش نظر
وچ قبر تے پل تھیں جد ہوسی گذر
یعطیک ربک داس تساں
لج پال کریسی پاس اساں
لاہو مکھ تو مخطط برد یمن
اوہا مٹھیاں گالیں الاو مٹھن
حجرے توں مسجد آو ڈھولن
دو جگ اکھیاں راہ دا فرش کرن
انہاں سکدیاں تے کرلاندیاں تے
انہاں بردیاں مفت وکاندیاں تے
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
— Peer Mehar Ali Shah\
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
وہ گھر سے نکل کر مدینے کے باہر
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
جدھر دیکھۓ موت کا ہے اندھیرا
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
عتیق ابنِ حیدر کے سینے میں غم ہے
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
— Unknown
اللہ کی رضا ہے محبت حسینؑ کی
جب کربلا میں آئے دُلارے بتول کے
اک زخم دل پہ اور بھی گھیرا لگا دیا
زینب نے جب نگاہوں سے دیکھا یہ ماجرا
مانا کہ یہ تمہاری بہن کے قرار ہیں
زینبؑ کی بات سُن کے شہہِ دین رو دیے
زینبؑ تمہارے لعل لہو میں نہائیں گے
یا حسینؑ ابنِ علیؑ ، یا حسینؑ ابنِ علیؑ
اسغر علی بھی راہ باغِ ارم ہوئے
زہرہؑ کا صبرچھِن گیا حیدرؑ کا گھر لٹا
اِک درد سے امام کا چہرہ اداس ہے
شیرِ خدا کے شیر کی حالت عجیب ہے
بیمار نونہال کو بستر پہ چھوڑ کر
جی جاں ہی عزیز نہ راحت عزیز تھی
دریا بہا جو فوج کہ پیاسے کو دیکھ کر
اُس خون کو فرشتوں نے دامن میں لے لیا
زخموں سے چُور ہو گئے جو مرتضیٰ کے لعل
اس طرح پورا ہو گیا تقدیر کا لکھا
یا حسینؑ ابنِ علیؑ ، یا حسینؑ ابنِ علیؑ
— Unknown
سلطانِ کربلا کو ہمارا سلام ہو
عباسِ نامدار ہیں زخموں سے چور چور
اکبر سے نوجوان بھی رن میں ہوۓ شہید
بھائی، بھتیجے، بھانجے سب ہو گئے نثار
اصغر کی ننھی جان پہ لاکھوں درود ہوں
ہو کر شہید قوم کی کشتی ترا گئے
ناصؔرولائے شام میں کہتا ہے باربار
— Unknown
زہرہ کے لاڈلوں کا ہے بڑا سخی گھرانہ
بگڑی ہوئی جہاں کی قسمت کو یہ سنواریں
ایسا جہان میں ہےبس ایک آستانہ
سردار قدسیوں کے بن کر فقیر آئیں
آتا ہے قاتلوں کو شربت انہیں پلانہ
جنت سے سِل کے جوڑے ان لاڈلوں کے آئیں
اونچا حسب نسب ہے اور ٹھاٹھ ہے شہانہ
— Unknown
لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا
یہ بِل یقیں حسینؑ ہے نبی کا نور عین ہے
یہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مست ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حسین ہے حسین ہے ، نبی کا نُورِ عین ہے
حسین ہے حسین ہے ، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ بالیقیں حسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حسین ہے حسین ہے ، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ بالیقیں حسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ جسکی ایک ضرب سے، کمالِ فنِّ حرب سے
یہ بالیقین حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ بالیقین حسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
— Hafeez Jalandhari\