شاہانِ جہاں کس لئے شرمائے ہوئے ہیں
ملتی نہیں دل کو کسی پہلو بھی تسلی
یہ شہرِ مدینہ ہے کہ اک کشش آباد
حاجت نہیں جنبش کی یہاں اے لبِ سائل
ہنگامۂِ محشر میں کہاں حبس کا خدشہ
بن جائے گی محشر میں نصیرؔاب تری بگڑی
— Peer Naseer Ud Din Naseer\
شاہانِ جہاں کس لئے شرمائے ہوئے ہیں
ملتی نہیں دل کو کسی پہلو بھی تسلی
یہ شہرِ مدینہ ہے کہ اک کشش آباد
حاجت نہیں جنبش کی یہاں اے لبِ سائل
ہنگامۂِ محشر میں کہاں حبس کا خدشہ
بن جائے گی محشر میں نصیرؔاب تری بگڑی
— Peer Naseer Ud Din Naseer\
خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفیٰ جانے
صدا کرنا ہی میرے بس میں تھامیں نےصدا کردی
ڈراتا مجھ کو توکیوں ہے عزاب قبرسےواعظ
مریض مصطفیٰ ہوں میں طبیبو مجھ کو نہ چھیڑو
مری مٹی مدینے پاک کی رہ میں بچھا دینا
کہا جبریل نے سدرہ تلک میرے رسائی ہے
ہمیں تو سر خرو ہونا ہے آقا جی کی چوکھٹ پر
— Hakeem Nasir\
فراق مدینہ میں دل رو رہا ہے
میری آنکھ سے چھینا طیبہ کا منظر
دکھایا ہے دن یہ مقدر نے مجھ کو
میرے دل کے ارماں رہے دل ہی دل میں
سکوں تھا مجھے کوچہ مصطفیٰﷺ میں
نہ دنیا کی فکریں نہ غم تھا وہاں پر
میں لفظوں میں کیسے بتا دوں کسی کو
پہاڑوں کی دلکش قطاروں کے جلوے
انہیں چومنا ہاتھ لہرا کر پیہم
عقیدت سے خاک مدینہ اٹھا کر
کبھی چلتے چلتے اٹھا کر تنکے
کبھی دید سرور کی حسرت میں منبر
حسین وہ پیاری وہ جنت کی کیاری
کبھی دیکھ کر سبز گنبد کا منظر
کبھی حاضری کے لیے گھر سے چل کر
کبھی روتے روتے کبھی دل ہی دل میں
مدینے سے میں دور آکر پڑا ہوں
بچھڑ کر عبید رضا تیرے در سے
بلا لو عبید رضا کو بلا لو
— Ubaid Raza\
زندگی کی حرارت تیرا نام ہے
اسمِ اعظم چھپا ہےتیرے نام میں
کیف و راحت میسر ترے نام سے
ہادی دو جہاں مہدیء ہر زماں
تجھکو حق نے عطا کی ہیں سب قدرتیں
تو محمد ﷺ ہے حامد ہے محمود ہے
ہونٹ ملتے ہیں صائمؔ ترے نام سے
— Unknown
مہمانِ لامکان کے قربان جائیے
دیکھا بچشمِ سر ہے خدا کو جو آپ نے
اسریٰ کی رات حور و ملک سہرا خوان تھے
معراج میں محُب کو جو محبوب نے دیا
"مَنْ زَارَ قَبری" کہہ کے شفاعت جو دان کی
حضرت بلال پڑھتے تھے آقا کو دیکھ کر
آقا کے سامنے بھی سناتے رہے جو نعت
زہرا، علی و ذینب و حسنین جس میں ہیں
محشر میں ہے نجات محمد کے نام سے
شہرِ نبی کا اذنِ زیارت جنہیں ملا
جنت بھی رشک کرتی ہے جس کی بہار پر
یا ربِ حبلی امتی کہتے رہے حضور
فرما دیا حضور نے حیدر ہے میری جان
— Hussnain Al Saqlain\
خاک مجھ میں کمال رکھا ہے
میرےعیبوں پہ ڈال کر پردہ
جو فقیرانِ شاہ بطحا ہیں
مصطفیٰ کی شبیہ حسن و حسین
یہ کرم ہے حضور کا رب نے
ان کی رحمت نہیں فقط ہم پر
تیرا اعجاز کب کا مر جاتا
— Ejaz Ahmed\
اے کوۓ محبوبؐ کے مسافر
جو دل میں اتریں حسین منظر
نظر میں ہو جب کہ سبز گنبد
ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کی جاء پر
کرم جو ان کا ہو تم پہ زائر
بہا کے عشق کے یہ جواہر
یہ دور دوری ہو بس حضوری
ذرا سے دانے انہیں کھلا کر
نہ کھاۓ ٹھوکر تیرا اجاگر
— Unknown
رحمت کی بھیک سید ابرار چاہیے
جی چاہتا ہے میں رہوں قدموں میں آپکے
دنیا سے واسطہ ہے نہ عقبیٰ سے کچھ غرض
چارہ گروں سےہو نہ سکا جب علاج غم
گر چاہتے ہو پیارسے دیکھے تمہیں خدا
دنیا کے مال و زر کا سوالی نہیں ہوں میں
پڑھتا رہے درود وہ ذاتِ رسول پر
آقا یہ التجاۓ نیازیؔ ہے دم بدم
— Unknown
باغ عالم میں یارب یہ کون آگیا
مصطفیٰﷺ مجتبیٰﷺ مرحبا مرحبا
گلشنِ دَہر میں آۓ پیارے نبیﷺ
مصطفیٰﷺ مجتبیٰﷺ مرحبا مرحبا
ہرطرف آمد آمد کی دھومیں مچیں
مصطفیٰﷺ مجتبیٰﷺ مرحبا مرحبا
— Unknown
خدا کا ذکرکرے ذکر مصطفیٰ نہ کرے
کہا خدا نے شفاعت کی بات محشر میں
مدینے جا کے نکلنا نہ شہر سے باہر
اسیر جس کو بنا کر رکھیں مدینے میں
نبی کے قدموں میں جس دم غلام کا سر ہو
شعور نعت بھیہو اور زباں بھی ہو ادیب
— Adeeb Raye Puri\