پھر گنبدِ خَضرا کی فضاؤں میں بُلالو
قدموں سے لگا کر مجھے دیوانہ بنالو
گو خوار و گنہگار ہوں جیسا ہوں تمھارا
صدقہ مجھے سرکار نواسوں کا عطا ہو
یاشاہِ مدینہ مری امداد کو آؤ
طُوفان کی موجوں میں جہاز اپنا گِھرا ہے
سرکار! مرے خون کا پیاسا ہوا دشمن
اُوجَڑ ہوئی جاتی ہے مری زِیست کی بستی
ویران ہوا جاتا ہے خوشیوں کا گلستاں
دم توڑنے والا ہے گناہوں کا مریض اب
مرنے کا شَرَف اب تو مدینے میں عطا ہو
مدفن ہو عطا میٹھے مدینے کی گلی میں
کھینچے لئے جاتے ہیں جہنّم کو ملائک
فُرقَت میں تڑپتے ہیں جو مِسکین بچارے
محبوبِ خدا! سر پہ اَجَل آکے کھڑی ہے
— Unknown
