Sar Hai Kham Hath Mera Utha Hai (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

سرہے خَم ہاتھ میرا اُٹھا ہے

فَضل کی رحم کی اِلتِجا ہے

قَلب میں یاد لب پر ثنا ہے

کون دُکھیوں کا تیرے سِوا ہے

قَلب سختی میں حد سے بڑھا ہے

اِلتجائے غمِ مصطَفٰے ہے

حُبِّ دُنیا میں دل پھنس گیا ہے

ہائے شیطاں بھی پیچھے پڑا ہے

آہ! بندہ دُکھوں میں گِھرا ہے

اِلتجائے کرم یاخُدا ہے

تیرا اِنعام ہے یاالٰہی

ہاتھ میں دامنِ مصطَفٰے ہے

عِشق دے سَوز دے چشمِ نَم دے

واسِطہ گُنبدِم سبز کا ہے

ہر گنہ سے بچا مجھ کو مولٰی

تجھ کو رَمضان کا واسِطہ ہے

فضل کر رحم کر تو عطا کر

واسِطہ پنجتن پاک کا ہے

عَفو و رَحمت کا بخشش کا سائِل

میرا سب حال تجھ پر کھلا ہے

ہوں بظاہِر بڑا نیک صورت

ظاہِر اچھا ہے باطِن بُرا ہے

بے سبب اے خدا کردے بخشش

نام غَفّار مولیٰ تِرا ہے

مجھ خطاکار پر بھی عطا کر

مجھ کو دوزخ سے ڈر لگ رہا ہے

نَزع میں ربِّ غفّار تجھ سے

طالبِ جلوۂ مصطَفٰے ہے

قبر میں مجھ کو تنہا لِٹا کر

دل اندھیرے میں گھبرا رہا ہے

مَغفِرت کا ہوں تجھ سے سُوالی

مجھ گنہگار کی اِلتجا ہے

میرے مُرشِد جو غوثُ الوَرا ہیں

یہ تِرا لُطف تیری عطا ہے

نارِ دوزخ سے مجھ کو اَماں دے

کر دے رَحمت مِری اِلتجا ہے

واسِطہ تجھ کو پیارے نبی کا

بخش دے مجھ کو یہ اِلتجا ہے

یاخدا ماہِ رمضاں کے صدقے

نیک بن جاؤں جی چاہتا ہے

دَردِ عِصیاں مِٹا یاالٰہی

تجھ سے بیمار کی اِلتجا ہے

جو ہیں بیمار صحّت کے طالِب

تجھ سے رحم و کرم کی دُعا ہے

میں نے مانا کہ سب سے بُرا ہوں

ناز رحمت پہ مجھ کو بڑا ہے

عیب دُنیا میں تو نے چھپائے

آہ! نامہ مِرا کھل رہا ہے

عمر بدیوں میں ساری گزاری

بخش محبوب کا واسِطہ ہے

وِردِ لب کلمۂ طَیِّبَہ ہو

آگیا ہائے! وقتِ قضا ہے

یاخدا ایسے اَسباب پاؤں

مجھ کو اَرمان حج کا بڑا ہے

آہ! رنج و اَلَم نے ہے مارا

ایک غمگین دل کی صدا ہے

میری جان آفتوں سے چھڑانا

تجھ کو صِدّیق کا واسِطہ ہے

تو عَطا حِلم کی بھیک کر دے

تجھ کو فاروق کا واسِطہ ہے

گو یہ بندہ نکمّا ہے بیکار

کام وہ جس میں تیری رِضا ہے

تیرے پیارے کی دُکھیاری اُمّت

رحم کر بس تِرا آسرا ہے

ہر طرف سے بلاؤں نے گھیرا

تُوہی اب میرا حاجت رَوا ہے

اُس کی جھولی مُرادوں سے بھردے

جس نے مجھ سے دُعا کا کہا ہے

عِشقِ احمد میں آنسو بہاؤں

ایسی توفیق دے اِلتجا ہے

میری دشمن سے فرما حِفاظت

دَست بستہ مِری اِلتجا ہے

مِہرباں تُو ہی، تُو ہی مددگار

جس کو دُنیا نے ٹھکرا دیا ہے

سخت گوئی کی مٹ جائے خَصلَت

واسِطہ خُلقِ محبوب کا ہے

سُنّتوں کی کروں خوب خدمت

نیک میں بھی بنوں اِلتجا ہے

قافِلوں میں سفر کی ہو کثرت

عاجِزانہ الٰہی دُعا ہے

میری بَک بَک کی عادت مِٹادے

صدقہ عثماں کا جو باحیا ہے

یاالٰہی کر ایسی عنایت

تجھ سے عطارؔ کی اِلتجا ہے

— Muhammad Ilyas Atar Qadri\