حسرتا وا حسرتا شاہِ مدینہ الوداع
خوب آتا تھا سُرور آقا مدینے میں مجھے
تیری گلیوں سے بچھڑ کر بھی ہے کوئی زندگی
آنکھ روتی ہے تڑپتا ہے دلِ غمگین اب
دل مِرا غم ناک فُرقت سے کلیجا چاک چاک
میں شِکستہ دل لئے بوجھل قدم رکھتا ہوا
خون روتا ہے دلِ مغموم ہِجرِ شاہ میں
قافِلہ چلنے کو ہے سب رو رہے ہیں زار زار
جانے کب پھر آئے گا میٹھا مدینہ دیکھنے
نام سنتے ہی مدینے کا میں آقا روپڑوں
آپ کی یادوں کے صدقے وہ ملے سنجیدگی
مال کا طالب نہیں دے دو فَقَط سوزِ بلال
اپنی الفت کی شراب ایسی پلا آئے نہ ہوش
کاش! میں جاؤں جدھر دیکھوں مدینے کی بہار
گو بُرا ہوں ،بے عمل ہوں پر نہیں ہوں بے ادب
اَلفِراقُ آہ ا لفِراق اے پیارے آقا اَلفِراق
یارسولَ اللہ! اب لے لو سلامِ آخِری
آہ! اب عطارؔ جاتا ہے مدینے سے وطن
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
