سویا ہوا نصیب جگا دیجئے حضور
اب چل مدینہ کا مجھے مُژدہ سنائیے
پھر سبز گنبد اور وہ مینار کی بہار
مِسکین ہوں ،غریب ہوں پلّے نہیں ہے کچھ
عَرَفات اور مُزْدَلِفہ اور منٰی چلوں
خُلَفائے راشِدین کے صدقے میں یانبی
سائل غمِ مدینہ کا ہوں شاہِ بحروبر
احمدرضا کا واسِطہ الفت کا ساقیا
ہروقت سوزِ عشق میں تڑپا کروں شہا
زَہرا کے لاڈلوں کا وسیلہ میں لایا ہوں
صَدْقہ شہیدِ کربلا کا شاہِ انبِیا
یامصطَفٰے میں الفتِ دنیا میں پھنس گیا
پُرخار وادیوں میں بھٹک کے میں رہ گیا
توبہ نِباہ میں نہیں پاتا ہوں یانبی
ڈر لگ رہا ہے آہ!جہنّم کی آگ سے
قفلِ مدینہ دیجئے مُرشِد کا واسِطہ
عطارِؔ بدخصال کا عصیاں شِعار کا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
