تُو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈُوبے
مُرغ سب بولتے ہیں بول کے چُپ رہتے ہیں
جووَلی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے
بقسم کہتے ہیں شاہانِ صریفین و حریم
تجھ سے اور دَہر کے اقطاب سے نسبت کیسی
سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبہ کا طواف
اور پروانے ہیں جو ہوتے ہیں کعبہ پہ نثار
شجرِ سرو سہی کِس کے اُگائے تیرے
تُو ہے نوشاہ بَراتی ہے یہ سارا گلزار
ڈالیاں جُھومتی ہیں رقصِ خوشی جوش پہ ہے
گیت کلیوں کی چٹک غزلیں ہزاروں کی چہک
صفِ ہر شجرہ میں ہوتی ہے سلامی تیری
کِس گلستاں کو نہیں فصلِ بہاری سے نیاز
نہیں کس چاند کی منزل میں تِرا جلوۂ نور
راج کس شہر میں کرتے نہیں تیرے خدّام
مزرعِ چِشت و بخاراو عِراق و اجمیر
اور محبوب ہیں ، ہاں پر سبھی یکساں تو نہیں
اس کو سو فرد سراپا بفراغت اوڑھیں
گردنیں جھک گئیں سر بچھ گئے دِل لوٹ گئے
تاجِ فرقِ عرفا کِس کے قدم کو کہئے!
سُکر کے جوش میں جو ہیں وہ تجھے کیا جانیں
آدمی اپنے ہی احوال پہ کرتا ہے قِیاس
وہ تو چھوٹا ہی کہا چاہیں کہ ہیں زیرِ حضیض
دلِ اعدا کو رضاؔ تیز نمک کی دُھن ہے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
