وجہ نشاطِ زندگی راحت جاں تم ہی تو ہو
تم جو نہ تھے توکچھ نہ تھا تم جو نہ ہو تو کچھ نہ ہو
تاجِ وقارِ خاکیاں نازشِ عرش و عرشیاں
کس سے کروں بیانِ غم کون سنے فغانِ غم
روح و روانِ زندگی تاب و توانِ زندگی
تم ہو چراغِ زندگی تم ہو جہاں کی روشنی
تم سے جہانِ رنگ و بو تم ہو چمن کی آبرو
تم ہو قوام زندگی تم سے ہے زندگی بنی
اصل شجر میں ہو تم ہی نخل و ثمر میں ہو تم ہی
تم ہو نمودِ اولیں شمع ابد بھی ہو تم ہی
اخترؔ کی ہے مجال کیا محشر میں سب ہیں دم بخود
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
