بیکراں تم سے محبت بارہا تم پر سلامپیش لفظ ِآب و گل ، دیباچہء شام و سحر
بھیجتی ہے روشنی خوشبو ہوا تم پر سلامسرورِ اولاد آدم ، آدمیت کے امیر
والیِ آفاق، ختم الانیباؐ تم پر سلامتم محبت تم بزرگی عدل تم سچائی تم
اے امامِ علم، روح ِارتقا تم پر سلا مسرخیِ کن ، ابتدائے وقت، آغازِ حیات
انتہائے اصطفا و اجتبا تم پر سلامجب تمہارا نام لوں ، لب چومنے لگ جائے دل
دل کی ہر دھڑکن کا لکھوں مرتبہ تم پر سلامتم اجالا ہی اجالا، میرا دامن داغ داغ
میرے آقا بھیج سکتا ہوں میں کیا تم پر سلاملفظ سارے اشک پی کر چاند تارے بن گئے
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
