بہتے ہیں میری آنکھ سے صلِّ علیٰ کے رنگیوں آنسوؤں میں خاک قدم ہے رسول کی
پانی میں جس طرح کوئی رکھ دے ملا کے رنگرونے سے کہکشائیں سی مجھ میں بکھر گئیں
بارش کے بعد دیکھ رہا ہوں گھٹا کے رنگبخشے ہمیں ہمارے رسالت مآب نے
انصاف کے یقین کے صدق و صفا کے رنگیہ سارا معجزہ ہے درود سلام کا
دیکھی ہے میں نے لفظ کی خوشبو صدا کے رنگکھلتے ہیں پھول کی طرح شاخ و شجر بغیر
دستِ دعا کی روشنیوں میں دعا کے رنگلوٹی ہے خوب بندگیوں کی بہار بھی
خوشبو چُنی رکوع میں ٗ سجدے میں جا کے رنگہر چند موت کوئی مصّور نہیں مگر
آئے گی میرے پاس وہ لے کر بقا کے رنگاحرام زرد صرف مظفر کو چاہیے
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
