زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو
بہاریں آئیں جوبن پر گِھرا ہے ابر رحمت کا
ملے لب سے وہ مشکیں مُہر والی دم میں دم آئے
مچل جاؤں سوالِ مدّعا پر تھام کر دامن
دُعا کر بختِ خُفتہ جاگ ہنگامِ اجابت ہے
زبانِ فَلْسَفی سے اَمن خرق و اِلْتِیَام اَسرا
دو شنبہ مصطفٰی کا جمعۂ آدم سے بہتر ہے
وُفورِ شان رحمت کے سبب جرأت ہے اے پیارے
پریشانی میں نام ان کا دلِ صَد چاک سے نکلا
رضا نہ سبزۂ گردُوں ہیں کوتَل جس کے مَوْکب کے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
