مچی ہے دھوم تحمید و ثنا کی
محبت جس کو ہے خیرالوریٰ کی
جنہوں نے خلق کی حاجت روا کی
مدد کرنا مری اے ناصرِ خلق
مدد کی ہر مصیبت سے بچایا
میں ہوں جن کا وہی ہیں میرے شافع
گنہگاروں مبارک باد تم کو
خدا فرمائے جب قرآں میں یٰسین
ہیں تاباں مہر و مہ انجم درخشاں
تمامی انبیا آئے ُمبشر
شب ِ معراج جب اقصیٰ میں پہنچے
دوعالم نعمتوں سے بھر دیا ہے
دعائیں دے رہے ہیں دشمنوں کو
اسی در کے ہیں ہم منگتا بھکاری
سمیع ناصر جن کے ہیں القاب
ہیں سب ارض و سما و عرش روشن
کہا جَآءُ وْکَ نے آؤ یہاں پر
تصوف چاہیے گر تجھ کو صوفی
عطا فوراً کیا جو کچھ بھی مانگا
اَزَل کے روز سے کون و مکاں میں
فرشتوں نے کیا آدم کو سجدہ
ہوا مردود لعنت کا پڑا طوق
کرم ان کا عنایت ہے یہ ان کی
مجھے بندہ کیا شاہِ ہدیٰ کا
ہو ُمژدہ عاصیوں کو روزِ محشر
بدولت نقش پائے مصطفیٰ کے
تمہارا آستانہ مل گیا جب
ہمیشہ میں نے نافرمانیاں کیں
خدا نے کرلیا محبوب اپنا
مری تقدیر میں لکھا ہوا ہے
تمہارا روئے انور دیکھتے ہی
یہ فرمایا شبِ اَسریٰ خدا نے
کیا اَفلاک کو دو گام میں طے
سلاطینِ زمانہ نے بصد عجز
وہ پہنچی درجۂ مقبولیت پر
ابھی جی اٹھے مردے کلمہ پڑھتے
اُٹھا کر لے گئیں حوریں جناں میں
اندھیری رات ہے وقتِ مدد ہے
لٹا جاتا ہے جنگل میں اکیلا
بھنور میں پھنس گئی کشتی ہماری
جمیلؔ قادری تقدیر چمکی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
