ان کی یادوں کو جو سینے میں بسا لیتے ہیں
دور رہتے ہیں مدینے سے جو آقا کے غلام
یاد آتی ہیں مدینے کی بہاریں جب بھی
جن کے ہونٹوں پہ مہکتی ہے درودوں کی صدا
جب بھی آتا ہے نظر نقش کف پا ان کا
ان کے دینے کا ہے انداز نرالا سب سے
ان کی عظمت کے پرستار یہ انساں ہی نہیں
مال و دولت کی نہیں شرط وہاں پر ناصر
— Nasir Chishti\
