آہ! شاہِ بحر و بر! میں مدینہ چھوڑ آیا
آہ! مسجدِ نبوی، ہائے گنبدِ خَضرا
غم کے چھا گئے بادَل، دل میں مچ گئی ہَل چل
جب چلا تھا طیبہ کو، تھی خوشی مرے دل کو
دل میں بیقراری ہے اورگِریہ طاری ہے
چُھپ گیا نگاہوں سے، آہ! سب مدینے کا
قلب پارہ پارہ ہے، ہجرِ شہ نے مارا ہے
اب غمِ مدینہ سے، چاک چاک سینہ ہے
لُطف جو ہے طیبہ میں وہ کہاں وطن میں ہے
لَوٹ کر نہ میں آتا، کاش! جان دے دیتا
آہ! دن مدینے کے، جلد جلد گزرے تھے
دن کو بھی سُرور آتا، شب کو بھی ضَرور آتا
تھا وہاں سماں نوری، رنج و غم سے تھی دُوری
وقتِ ہجر جب آیا، پھوٹ پھوٹ کر رویا
ہِجر کا ہے صدمہ اور سینہ و جگر میرے
ہِجر کے میں صدموں سے، چُور چُور زخموں سے
جب مدینہ چُھوٹا تھا غم کا کوہ ٹُوٹا تھا
سبز گنبد اور مینار، آہ! چُھٹ گئے سرکار
تھا غمِ مدینہ میں ، فُرقتِ مدینہ میں
میرے حامی و ہَمدم! دُور ہوں جہاں کے غم
دل میں ہے پریشانی، ہو کرم اے سلطانی
دل کی ہے عَجب حالت، صدمہ و غمِ فُرقت
چلدیا سفینہ ہے چُھٹ گیا مدینہ ہے
غم کی ہو گیا تصویر، آہ! ہجر ہے تقدیر
دور ہو گیا سرکار! آہ! غمزدہ عطارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
