ہیچ ہیں دونوں جہاں میری نظر کے سامنے
جھلملانے لگ گئیں روضے کی روشن جالیاں
اُڑ گئی میری گناہوں کی سیاہی اُڑ گئی
مانگتا ہوں جس قدر ملتا ہے کچھ اس سے سوا
اک جگہ پر دونوں محوِ استراحت ہی نہیں
تو نے کار آمد بنایا زندگی اور موت کو
میں اسد صحنِ حرم میں بیٹھتا ہوں اس جگہ
— Asad Multani\
