خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی
دور تھے تو زندگی بے رنگ تھی، بےکیف تھی
میں نہ جاؤں گا کہیں بھی، در نبی ﷺ کو چھوڑ کر
والہانہ ہوگۓ جو تیرے قدموں پر نثار
ناز کر تو اے حلیمہ سرور کونینؐ پر
رکھ دیے سرکارﷺ کےقدموں پہ سلطانوں نے سر
مہر وماہ کی روشنی، مانا کہ اچھی ہے مگر
— Unknown
