اللہ عطا ہو مجھے دیدارِ مدینہ
آنکھیں مِری محروم ہیں مدّت سے الٰہی
پھر دیکھ لوں صَحرائے مدینہ کی بہاریں
پھر گنبدِ خَضرا کے نظارے ہوں مُیَسَّر
خاک آنکھوں میں محبوب کے کوچے کی سجا کر
کیا کیف و سُرور آتا تھاافسوس وہ میرے
تعظیم کو اُٹھ جاتے سبھی قافلے والے
پڑھ پڑھ کے سنایا ہے اِنہیں کلمۂ طیِّب
شادابیِ جنّت کا میں مُنکِر نہیں لیکِن
افسوس! مِرے نفس کو پھولوں کی طلب ہے
کثرت سے دُرُود اُن پہ پڑھورب نے جو چاہا
سرکار بُلاتے ہیں مدینے میں کرم سے
رِحلَت کی گھڑی ہے مِرے اللہ دِکھا دے
اللہ مجھے بخش، نہ ہو حَشر میں پُرسِش
یارب دلِ عطّارؔ پہ چھائی ہے اُداسی
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
