زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا
مصیبت میں جو کام آئے گنہگاروں کو بخشائے
بنایا جس نے بگڑوں کو سنبھالا جس نے گرتوں کو
وہ ہادی جس نے دنیا کو خدا والا بنا ڈالا
بسے جو فرش پر اور عرش تک اس کی حکومت ہو
وہ آقا جو کہ خود کھائے کھجوریں اور غلامو ں کو
بھلا عالم سی شے مخفی رہے اس چشمِ حق بیں سے
مسلمانی کا دعویٰ اور پھر توہین سروَر کی
ہو لب پر اُمتی جس کے کہیں جب اَنبیا نفسی
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
