پھر مدینے کی فَضائیں پاگیا
اپنے سر پر لاد کر بارِ گناہ
آہ! پلّے نیکیاں کچھ بھی نہیں
اس کے نامے کی سیاہی دور ہو
نیکیوں سے دو بدل اس کے گناہ
دیجئے اس کو شَفاعت کی سند
از پئے غوث و رضا ہو مغفِرت
صَدقہ شہزادوں کا ہو چشمِ کرم
لے کر اُمّیدِ کرم جانِ کرم
واسطہ زَہرا کا دو خُلدِ بریں
اُس کو بھی تم تو لگاتے ہو گلے
اے مِرے سروَر عطا ہو چشمِ تر
قلبِ مُضطَر کا سُوالی ہوں شہا
دیجئے سوزِ جگر سلطانِ دیں
میرا سینہ ہی مدینہ دو بنا
یانبی قُفلِ مدینہ دیجئے
سیِّدی! اَخلاق اچّھے کیجئے
لے کے کشکول آپ کے دربارمیں
دور ہوجائے گناہوں کا مَرَض
دو بنا مجھ کو پسندیدہ غلام
دولتِ اِخلاص ہو آقا عطا
آپ کی نظرِکرم جُوں ہی پڑی
المدد اے آمِنہ کے لاڈلے
بدرِ کامِل دیکھ کر تلوا ترا
اللہ اللہ !آپ کا حُسن و جمال
دشمنِ محبوب بُوجَہلِ لَعِیں
گلشنِ عالم کی کیا دیکھوں بہار
ناخُنِ پاکی ضِیائیں مرحبا!
سبز گنبد کی بہاریں دیکھ لو!
لے کے پلٹا ان سے منہ مانگی مُراد
قافِلہ سوئے مدینہ جب چلا
چاند دو ٹکڑے ہوا صدقے گیا
پاکے مرضی سرورِ کونین کی
مرحبا صلِّ علیٰ کا شور اٹھا
ناز اٹھائے تھے جہاں میں جس کے وہ
حشر میں ان کے گدا کو دیکھ کر
آنکھ ٹھنڈی ہو ترے دیدار سے
شور اُٹھا محشر میں یہ چاروں طرف
— Unknown
